بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حدیث ابوہریرۃ میں المجاہرین کا مطلب


سوال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: میری ساری امت کو معاف کیا جائے گا، سوائے گناہوں کو اعلانیہ اور کھلم کھلا کرنے والوں کے، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے، مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی، تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔

 اِس حدیثِ کا کیا مطلب اور مفہوم ہے؟ میں بھی کافی پہلے غفلت اور علم نہ ہونے کی وجہ سے زنا جیسے گھناؤنے گناہ کا مرتکب ہوا تھا،  میں بہت زیادہ پریشان اور بے چین تھا کہ کیا کر بیٹھا،   مُجھے پریشان دیکھ کر میرے کُچھ دوستوں نے ہم سے پُوچھا تو میں  نے بےچینی میں اپنے  کیے گناہ زنا کے بارے میں بتا دیا، شیطان نے زبان سے نکال دیا۔اب جب سے یہ حدیثِ پڑھا ہوں کافی پریشان بھی ہوں اور شیطان مُجھے نااُمید اور  مایوس کر دیا ہے   کہ تو نے اپنا گناہ بتا دیا تھا، اب تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی، تمہارا گناہ معاف نہ ہوگا،  یہ سب سوچ کر جینے کادل نہیں  کر رہاہے،  اب آپ ہی اہلِ علم حضرات مُجھے ہمّت دلائیں اور زندگی میں پھر جینے کا حوصلہ دیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل نے جو گناہ کیے ہیں تو ان گناہوں  پرندامت کے ساتھ صدق دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ان کو  نہ کرنے کا عزم کرے، تو اس سے سائل کے تمام  گناہ معاف ہوجائیں گے اورتو بہ کے بعد سائل ان گناہ کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑدے، الٖغرض توبہ تائب ہونے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،باقی حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ  میری امت میں سب سے زیادہ سخت سزااعلانیہ گناہ کرنے والوں کو دی جائے گی۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"و عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "التائب من الذنب كمن لا ذنب له."

(کتاب الدعوات، باب الاستغفار و التوبة، 2/32ط: المكتب الإسلامي)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ جس نے گناہ نہیں کیا۔ 

قرآن کریم میں ہے:

وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(سورۃ النساء آیت: 110)

ترجمہ:اور جو شخص کوئی برائی کرے یااپنی جان کا ضرر کرے پھر اللہ تعالی سے معافی چاہے تواللہ تعالی کو بڑی مغفرت والا بڑارحمت والاپائے گا۔

(تفسیر بیان القرآن 1/405ط:مکتبہ رحمانیہ)

 سنن الکبری للبیہقی  میں ہے:

" قال سالم: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلميقول: "كل أمتي معافى إلا المجاهرين، و إن من الإجهار أن يعمل الرجل في الليل عملًا، ثم يصبح و قد ستره ربه فيقول: يا فلان عملت البارحة كذا و كذا. و قد باتيستره ربه، يبيت في ستر ربه و يصبح يكشف ستر الله عنه."

(باب ما جاء في الاستتار بستر الله عز وجل17/527ط: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية)

ترجمہ: ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری تمام امت کے گناہ معاف ہوں گے مگر وہ شخص جو اعلانیہ گناہ کرتا ہو اور یہ تو جنون کی بات ہے کہ رات کو ایک آدمی کوئی کام کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈالے پھر صبح ہونے پر وہ آدمی کہے کہ اے فلاں میں نے گزشتہ رات فلاں فلاں کام کئے رات کو اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا اور یہ کہ صبح کو اس نے اللہ کے ڈالےہوئے پردہ کو کھول دیا۔ 

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"بل المعنى: كل أمتي لايؤاخذون أو لايعاقبون عقابًا شديدًا إلا المجاهرون."

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان و الغيبة و الشتم، 7/3034ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307200055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں