بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

HBL بینک سے پرسنل لون لینے کا حکم


سوال

میں نے اپنے دوست کے ساتھ ایک مکان شراکت میں لیاتھااوراب میں بچوں کے ساتھ اس میں رہ رہاہوں،اس وقت میرا دوست شراکت داری ختم کرناچاہتاہے،اب میرے پاس  اتنی رقم نہیں ہے کہ میں اس کو اپناحصہ دے دوں اورکہیں سے قرض بھی نہیں مل رہاہے ،میں سول ایسوسی ایشن اتھارٹی میں ملازم ہوں اور ہمارے ادارے کے تمام ملازمین کے تنخواہیں HBL(ایچ ،بی ،ایل) بینک کے ذریعے مل رہی ہیں ،اوربینک ہمیں personal loan(پرسنل لون)فراہم کرتاہے،جس کی ادائیگی تنخواہ سے لیں گے،اس سلسلے میں راہ نمائی درکارہے،کہ کیاHBLسے loan(لون)لے سکتاہوں؟ اس وقت میرے پاس ایک گاڑی ہے جسے بیچ کر کام نہیں بن رہا۔

وضاحت: قرض کے طورپر دی ہوئی رقم پرزائد سود لیتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، بینک  مختلف کاموں کے لیے جو قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے،   جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  سائل کے بیان کے مطابقHBLبینک سے تنخواہیں وصول کرنے والےکومذکورہ بینک  پرسنل لون فراہم کرتاہے،اوربعد میں پرسنل  لون لینے والے اشخاص کی تنخواہوں  سے مذکورہ لون کاٹاجاتاہے،چوں کہ بینک لون فراہم کرنے کی صورت میں زائد رقم بھی وصول کرتاہے جو کہ شرعاً سود ہے توایسی صورت میں سائل کے لیے مذکورہ بینک سے لون لیناشرعاً ناجائز اورحرام ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ." [الطلاق: 2، 3]

مشكوة المصابيح  میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أكل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء . "رواه مسلم.

(باب الربا ج : 2 ص : 855 ط : المكتب الاسلامي)

      وفیہ ایضا:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه."

(باب الربا ج : 2 ص : 859 ط : المكتب الاسلامي)

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(کتاب الحوالة،باب کل قرض جر  منفعة ج : 14 ص : 513 ط : ادارۃ القرآن)

      الاشباہ والنظائر میں ہے:

"    وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)."

(الفن الاول، القاعدة الخامسة، ص:93، ط:قدیمی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101540

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں