بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

HBA (House Building Advance) لون پر اس لیے سود دینا کہ جی پی فنڈ کی اضافی رقم لے رہا ہے


سوال

[HBA (House Building Advance) ] ایچ بی اےایک  ایڈوانس قرض ہے جو گورنمنٹ اپنے ملازمین کو دیتی ہے اور اس میں اصول یہ ہے کہ جو جی پی فنڈ میں سود لے رہا ہے، اسے ایچ بی اے (HBA) میں سود بھرنا ہوگا۔ میں نے سنا ہے جی پی فنڈ والا سود لینا جائز ہے تو کیا ایچ بی اے پر سود بھرنا بھی جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ایچ بی اے (HBA) لون  لے کر اس پر سود ادا کرنا ناجائز ہے،  چاہے جی پی فنڈ کی اضافی رقم ملنے والی صورت جائز ہی کیوں نہ ہو۔

باقی جی پی فنڈ کے سود کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ سے جبری کٹوتی ہورہی ہو تو فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے ۔ اس لیے  کہ ملازم نے اپنی رضامندی سے رقم جمع نہیں کروائی، ادارہ اس سے جس طرح بھی نفع کمائے، ملازم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، اور قانوناً وشرعاً ابھی تک مذکورہ رقم اس کی ملکیت میں بھی نہیں ہوتی ؛ لہٰذا اس کے لیے اضافی رقم لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر کوئی احتیاطاً یہ رقم استعمال نہ کرے تو یہ تقوے کی بات ہے۔

اور اگر جی پی فنڈ کے لیے تنخواہ سے اختیاری کٹوتی ہورہی ہو تو  اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے  (اور ابتدا میں اگر کمپنی اپنی طرف سے بھی کچھ رقم ملاتی ہے تو) اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، انٹرسٹ کے نام سے ملنی والی زائد رقم لینا شرعاًجائز نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ اس صورت میں ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرواتاہے، گویا وہ اپنی جمع شدہ رقم کو سودی انویسٹمنٹ میں صرف کرنے پر راضی ہوتاہے، لہٰذا یہ اضافہ لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ سودی معاملے پر رضامندی بھی ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):

"وفي الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں