بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مچھلی کھانے کی چاہت کے واقعہ کی تحقیق


سوال

حضرت  عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی، ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرفا سے اظہار فرمایا، یرفأ آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ، ایک دن آپ نے فرمایا : یرفا، آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ ‏میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کر ۔پھر آپ نے فرمایا : رہنے دو ، کھاتے ہی نہیں، ایک چھوٹی سی خواہش کے لیے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ آٹھ میل جانا اور آٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لیے؟ چھوڑو يرفأ ! اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی، غلام کہتا ہے: میں کئی ‏سالوں سے آپ کا خادم تھا، لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی ، پر آج جب خواہش کی ہے تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ غلام کہتے ہیں:  جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ ‏مہمان آئے ہوئے ہیں،  عصر ان کی وہیں ہوجائے گی، غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا، عربی نسل کا گھوڑا تھا ، دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا، عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟  وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا ‏خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا، تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے ، وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نہ لیں ، غلام کہتا ہے  کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا ، پر پسینے کی وجہ سے ‏گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا ، پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ، پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا، فرماتے ہیں :جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے،  میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔ گھر آئے تو میں نے کہا : حضور ، اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔ مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ‏ہوں۔ کہتا ہے : میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے،  گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا، اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے : یرفا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا،  لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا ‏تجھے یاد ہی نہیں رہا۔ اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔ حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے : ات یرفا،  ادھر آ ، تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں، کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ، میں تو دعائیں مانگتا ہوں ‏، نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔ میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے :ایک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے سولہ میل کا سفر طے کرایا،  ‏اے اللہ میں جانور تھا، بےزبان تھا، سولہ میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کے لیے تو پھر یرفاتو بتا میرے جیسے وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟ یرفأ کہتا ہے: میں  اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا،  میں تڑپ اٹھا کہ حضور یہ والی سوچ ‏! (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا ، حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے:  اب اس طرح کر  کہ گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کر آئے ہو ، اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کہ تیری بخشش کی بھی دعا کریں ‏اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔

یہ  واقعہ درست ہے؟ یہ کسی حوالے سے ثابت ہے یا نہیں؟

جواب

حضرت عمر رضي الله عنه كا مذکورہ واقعہ مذکورہ  بیان کے عین  مطابق تو ہمیں کہیں نہیں مل سکا ، البتہ واقعہ کا اجمالی مضمون کہ’’ حضرت عمر رضی اللہ کا ایک یوم مچھلی کھانے کا دل چاہا، تو آپ کے غلام ’’یرفأ ‘‘ سواری پر جا کر  بحر ِقلزم کے ساحل پر واقع مقام ’’جار‘‘ سے مچھلی خرید لائے ،اور پھر سواری کو نہلا دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سواری کو جب دیکھا تو فرمایا کہ آپ اس کے کان کے نیچے سے پسینہ کو دہونا بھول گئےہیں ، آپ نے عمر کی چاہت کی خاطر جانور کی تکلیف دی،قسم اللہ کی  عمر آپ کی ٹوکری کو چکھے گا بھی نہیں‘‘  ۔ یہ مضمون ابن عساكر  رحمہ اللہ (المتوفى: 571ھ) نے اپنی ’’تاریخ‘‘  میں اپنی سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے، ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں: 

"أخبرنا أبو سهل محمد بن إبراهيم أنا أبو الفضل الرازي أنا جعفر بن عبد الله نا محمد بن هارون نا يونس بن عبد الأعلى نا عبد الله بن وهب نا عبد الرحمن بن زيد عن أبيه عن جده ،قال: قال عمر بن الخطاب يوما: لقد خطر على قلبي شهوة الحيتان الطري، قال: فيرتحل يرفأ، فيرتحل راحلة له، فسار ليلتين إلى الجار مدبرا، وليلتين مقبلا، واشترى مكتلا، فجاءه به، قال: ويعمد يرفأ  إلى الراحلة، فغسلها، فأتى عمر، فقال :انطلق حتى أنظر إلى الراحلة، فنظر ،ثم قال: نسيت أن تغسل  هذا العرق الذي تحت أذنها، عذبت بهيمة من البهائم في شهوة عمر، لا والله لا يذوق عمر مكتلك." 

(تاريخ دمشق، (44/ 301)، ط/  دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)

علامہ ذهبي رحمه الله (المتوفى: 748ھ)نے بھی  اسے اپنی ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں نقل فرمایا ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : 

"وقال عبد الرحمن بن زید بن أسلم، عن أبيه، عن جده، قال عمر: لقد خطر على قلبي شهوة السمك الطري، قال ورحل يرفأ راحلته وسار أربعاً مقبلاً ومدبراً، واشترى مكتلاً فجاء به، وعمد إلى الراحلة فغسلها، فأتى عمر فقال: انطلق حتى أنظر إلى الراحلة، فنظر وقال: نسيت أن تغسل هذا العرق الذي تحت أذنها، عذبت بهيمة في شهوة عمر، لا والله لا يذوق عمر مكتلك."

(تاریخ الإسلام، (3/ 268)، ط/ دار الكتاب العربي)

نیز علامه سیوطی رحمہ اللہ (المتوفي: 911ھ) نے بھی تاریخ الخلفاء ميں اسے نقل فرمایا ہے ، ان کے الفاظ  کچھ یوں ہیں :

"وقال أسلم : قال عمر : لقد خطر على قلبي شهوة السمك الطري قال: فرحل يرفأ راحلته و سار أربعا مقبلا و أربعا مدبرا و اشترى مكتلا فجاء به و عمد إلى الراحلة فغسلها فأتى عمر فقال : انطلق حتى أنظر إلى الراحلة فنظر و قال: أنسيت أن تغسل هذا العرق الذي تحت أذنيها ؟ عذبت بهيمة في شهوة عمر؟! لا و الله لا يذوق عمر مكتلك." 

(تاريخ الخلفاء، زهده في المطعم والملبس، (ص:233 و234)، ط/ دار المنهاج للنشر والتوزيع)

لہذا مذکورہ واقعہ کا جتنا مضمون  مذکورہ کتب میں نقل ہوا ہے ،   اسے بیان کیا جاسکتا ہے، مذکورہ مضمون کے علاوہ سوال میں درج واقعہ کا دیگر حصہ  جب تک کسی مستند کتاب سے  ثابت نہ ہوجائے، اسے بیان سے گریز کرنا چاہیے ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں