بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت ذوالبجادین رضی اللہ عنہ کا تعارف


سوال

حضرت ذوالبجادین رضی اللہ عنہ  کا تعارف ذکر کردیں۔

جواب

نام و نسب :  عبد اللہ بن عبد نہم بن عفیف بن سحيم  بن عدی بن ثعلبه بن سعد ۔ اسلام لانے سے قبل ان کا نام عبد العزی تھا ، اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ رکھ دیا۔ ان کا تعلق قبیلہ مزینہ سے تھا۔

تربیت و نشونما: حضرت ذوالبجادین رضی اللہ عنہ یتیم تھے، ان کی کفالت ان کے چچا نے کی، وہ ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔

ذو البجادین کی وجہ تسمیہ: البجادین  ، البِجَاد    سے ہے ، اور اس کا معنی ہے: موٹی چادر۔ حضرت ذو البجادین  ابھی چچا کے زیر تربیت ہی تھے کہ ان کے چچا  کو معلوم ہوا کہ ذو البجادین ایمان لے آئے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر تم نے  اسلام  قبول کر لیا  تو میں تم سے  تمام وہ چیزیں چھین لوں گا جو میں نے تمہیں دی تھیں، اس پر انہوں نے کہا: میں تو اسلام قبول کرچکا ہوں ،  یہ سننا ہی تھا کہ انہوں نے جو جو ضروریات وغیرہ کی چیزیں انہیں دی تھیں، وہ ان سے چھین لیں یہاں تک کہ ان سے ان کے پہنے ہوئے کپڑے بھی اتروادیے۔ اس واقعہ کے بعد حضرت ذوالبجادین اپنی والدہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے  اپنی ایک دھاری دار چادر دو حصوں میں کاٹ کر ان کو دی، حضرت نے آدھی چادر کو تہہ بند کے طور پر استعمال کیا ، اور آدھی چادر سے   بقیہ بدن کو ڈھانپا۔

حافظ ابن الاثیر رحمہ اللہ نے ایک وجہ اوربھی لکھی ہے کہ جب یہ اسلام لائے تو  ان کی قوم نے ان کے کپڑے  بھی اتروادیے، اور انہیں ایک موٹی کھردری قسم کی  چادر پہنادی،  یہ اپنی قوم سے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے، حاضری سے کچھ پہلے انہوں نے اس چادر  کو دو حصوں میں پھاڑ کر بدن پر ڈال دیا ، جس کی وجہ سے انہیں "ذو البجادین" کہا گیا۔  جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا ہے کہ آپ نے ان سے فرمایا:  "تم عبد اللہ ذوالبجادین ہو"۔

صفات: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص  کے بارے میں جن کو ذو البجادین کہا جاتا تھا :فرمایا : " یہ بہت آہ وزاری کرنے والا ہے"، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے  ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کثرت سے قرآن کی تلاوت اور دعاؤوں میں مشغول رہتے تھے، اذکار ، تلاوت  وغیرہ میں ان کی آواز بلند رہتی تھی۔

حضرت ذو البجادین بطور رہبر: حافظ  ابن حجر رضی اللہ عنہ نے الإصابة في تمييز  الصحابة  میں ذکر کیا ہے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب ہجرت کے دوران راستہ مشتبہ ہوگیا تو  انہوں نے راستہ بتلایا۔

وفات : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں رات  کے درمیان   میں اٹھا،  تو لشکر کے ایک جانب میں نے آگ کا ایک شعلہ دیکھ کر میں اس کے پیچھے چل پڑا ، وہاں دیکھا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر  حضرت عمر رضی اللہ عنہما  جمع ہیں، اور حضرت عبد اللہ ذو البجادین  کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ہے،  یہ حضرات ان کے لیے قبر کھودنے میں مصروف ہیں، قبر کی کھدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس خود شرکت فرمائی۔  جب ہم ان کو دفنا  چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أللهم إني أمسيت عنه راضيا، فارض عنه"۔ ترجمہ: اے اللہ ! میں اس سے راضی ہوں آپ بھی اس سے راضی ہوجائیں۔

"مآخذ :  معرفة الصحابة لأبي نعيم  الأصبهاني، ط: دار الوطن- الرياض، الطبعة الأولى، 1419ه-1998م، باب الذال من باب العين، 1636/3، رقم الترجمة: 1626۔ أسد الغابة في معرفة الصحابة ، ابن الأثير الجزري، ط: دار الفكر- بيروت، 1409ه-1989، 123/3، رقم الترجمة 2928۔ سير  أعلام النبلاء، الذهبي،  ط: مؤسسة الرسالة، الطبعة الثالثة، 1406ه، 1985م،  سيرة 2، 259۔ الإصابة في تمييز الصحابة، ابن حجر،  ط:دار الكتب العلمية -بيروت،الطبعة الأولى، 1415ه- تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض،  139،140/4، رقم الترجمة: 4822."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101636

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں