بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت یعقوب علیہ السلام کا دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا


سوال

حضرت یعقوب سے متعلق ہے تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حضرت یعقوب کے نکاح میں دو حقیقی بہنیں تھی جن کے نام راحیل اور لیاہ ہیں کیا اُس زمانے میں دو حقیقی بہنوں سے نکاح کی ممانعت نہیں تھی ؟

جواب

کتبِ تفسیر و  تاریخ میں اس بات کی تصریح ملتی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے ماموں کی دو بیٹیوں لیا  اور راحیل سے یکے بعد دیگرے نکاح کیا تھا، ساتھ ہی اس بات کی بھی صراحت ہے کہ اس زمانے میں  دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا ممنوع نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی اس میں دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام قرار دیا گیا۔

وضاحت: کتابوں میں یہ نام "لیا " اخیر میں "ہا" کے بغیر مذکور ہے۔

تاریخ طبری میں ہے:

"ثم ان يعقوب ع هوى ابنة خاله- وكانت له ابنتان- فخطب إلى أبيهما الصغرى منهما، فأنكحها إياه على أن يرعى غنمه إلى أجل مسمى، فلما انقضى الأجل زف إليه أختها ليا، قال يعقوب: إنما أردت راحيل، فقال له خاله: إنا لا ينكح فينا الصغير قبل الكبير، ولكن ارع لنا أيضا وأنكحها، ففعل فلما انقضى الأجل زوجه راحيل أيضا، فجمع يعقوب بينهما، فذلك قول الله: «وأن تجمعوا بين الأختين إلا ما قد سلف» . يقول: جمع يعقوب بين ليا وراحيل."

(ذكر إسحاق بن ابراهيم ع وذكر نسائه وأولاده،1/ 320، ط:دار المعارف بمصر)

وفيه أيضاً:

"وكان الناس يومئذ يجمعون بين الأختين إلى أن بعث موسى ع وأنزل عليه التوراة- فرعى له سبعا، فدفع إليه راحيل".

(ذكر إسحاق بن ابراهيم ع وذكر نسائه وأولاده،1/ 317،ط:دار المعارف بمصر)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وكذلك كان الجمع بين الأختين سائغا، وقد فعله يعقوب عليه السلام جمع بين الأختين، ثم حرم عليهم ذلك في التوراة، وهذا كله منصوص عليه في التوراة عندهم".

(سورة آل عمران، 2/ 65، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں