بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں شراب کےسرکہ بن جانے سے متعلق ایک واقعہ کی تحقیق


سوال

حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے ،آپ کے سامنے ایک نوجوان آگیا جو کپڑے کے نیچے کچھ چھپائے ہوا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے اس سے پوچھا: اے نوجوان! یہ کیا چیز تم نے کپڑے کے نیچے اٹھا رکھی ہے ؟اس نوجوان کے پاس شراب تھی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے  ڈر کے مارے کہا : یہ سرکہ ہے، اور دل ہی دل میں اللہ  تعالی سے دعا کی: یا اللہ !آج مجھے اس رسوائی سے بچائیے! کبھی شراب نہیں پیوں گا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا :مجھے دکھاؤ تاکہ میں دیکھوں تو واقعی سرکہ ہے یا نہیں؟ نوجوان نے اس چیز کو کپڑے سے نکالا تو وہ  خالص سرکہ بن چکی تھی۔

عثمان بن حسن بن احمد الخوبوی الحنفی(متوفی:۱۸۰۹) کی کتاب "درة الناصحين في الوعظ والإرشاد"میں یہ واقعہ موجود ہے۔ اس واقعہ کی  اسنادی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ واقعہ مستند  ہے؟ اس واقعہ کو بیان کیا جاسکتاہے؟

جواب

سوال میں آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں  شراب سے سرکہ بن جانے سے متعلق  جو واقعہ ذکرکرکے اس کے بارے میں دریافت کیا ہے ، یہ  واقعہ"مكاشفة القلوب المقرّب إلى حضرة علّام الغيوب"، "دُرّة الناصحين في الوعظ والإرشاد"، "الرسائل المضيئة لكشف ظلمة السير إلى الحقيقة"، "تنوير القلوب في معاملة علّام الغيوب"میں  ایک جیسے الفاظ کے ساتھ  مذکور ہے۔"دُرّة الناصحين في الوعظ والإرشاد"میں اس واقعہ کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حُكي أنّ عمر بن الخطّاب -رضي الله عنه- مَرّ وقتاً مِن الأوقات في سِكك المدينة، فاستقبله شابٌّ، وهو حاملٌ تحت ثيابه شيئاً، فقال له عمر: أيُّها الشابُّ! ما الذي تحمل تحت ثيابك؟ وكان خمراً، فَاستحي الشابُّ أن يقول خمراً، وقال في سِّره: إلهي! إن لم تخجَلنيْ عند عمر ولم تفضَحنيْ وسترتَنيْ عنده فلا أشربُ الخمر أبداً، فقال: يا أمير المؤمنين! الذي أحمِلُه؛خَلٌّ، فقال عمر: أرِني حتى أراه، فكشفها بين يديه، فرآها عمر وقد صارتْ خلاًّ نقيعاً".

(درة الناصحين في الوعظ والإرشاد، المجلس الثامن والستون في بيان التوبة،ص:267، ط: دار إحياء الكتب العربية)

مذکورہ تمام کتب  میں یہ واقعہ   ایک حکایت کے طور پر بغیر کسی سند اور حوالہ کے  مذکور ہے، اور ان کے علاوہ کسی اور کتاب میں ہمیں  یہ واقعہ تلاش کے باوجود نہیں مل سکا،   لہذا جب تک کسی معتبر درجے میں اس کا ثبوت نہ مل جائے اس وقت تک اسے بیان کرنے سے احتراز کرناچاہیے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں