بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرتِ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط والے واقعہ کی تحقیق/اورحضورﷺسے حاجات کے لیے سفارش کروانے کا حکم


سوال

حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بارش نہیں ہو رہی تھی تو حضرت عمر نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جا کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہیں کہ اے اللہ کے رسول آپ اپنے رب سے ہمیں بارش مانگ کر دیں اور پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس صحابی کے خواب میں آئے اور کہا کہ حضرت عمر کو میرا سلام کہنا اور بارش بھی برس گئی ، براہ کرم وضاحت فرما دیں کہ کیا یہ واقعہ درست ہے ؟

2:اگر یہ واقعہ درست ہے تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ہمارے لیے اللّٰہ سے مانگ سکتے ہیں تو کیا یہ بات درست ہے ؟ وضاحت فرما دیں ۔

جواب

1:واضح رہے کہ سائل نے جس واقعہ کا ذکر سوال میں کیا ہے ،یہ واقعہ متعدد کتب ِ حدیث ،سیر اور کتبِ تاریخ میں موجود ہے ،اور یہ واقعہ صحیح ہے ،البتہ سائل نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرتِ عمر نے اس آدمی کو قبر النبی ﷺ کے پاس بھیجا تھا ،تو ایسا نہیں ہے بلکہ وہ آدمی قحط سالی کے زمانے میں خود ہی آپ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس آکر بارش کے لیے سفارش کروائی تھی ۔

2:مذکورہ حدیث اور اس کے  علاوه  بھی قرآن واحادیث سے ثابت ہے کہ کوئی بھی شخص اگر آپﷺ کی قبر مبارک پر آکر اپنے گناہوں کی معافی یا اپنی کسی بھی حاجت کے لیے حضورﷺ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دعا وسفارش کی درخواست کرے ،تو آپﷺ اس کے لیے   اس کی حاجات کے لیے اللہ  تعالیٰ سے دعا وسفارش  کرتے ہیں ۔

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

"وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ."﴿النساء: ٦٤﴾

ترجمہ:"اور اگر جس وقت اپنانقصان کر بیٹھتے تھے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے پھر الله تعالیٰ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لیے الله تعالیٰ سے معافی چاہتے اور ضرور الله تعالیٰ کو تو بہ قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا پاتے ۔ "(بیان القرآن)

اس آیت کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانیؒ معارف القرآن میں تحرفرماتے هيں كه :   یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو جائے اورآپ اس کے لئے دعا مغفرت کر دیں اس کی مغفرت ضرور ہو جائے گی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانہ میں ہو سکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضر اسی حکم میں ہے۔

     حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آ کر گر گیا اور زارو زارروتے ہوئے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہو جائے اور رسول اس کے لئے دعائے مغفرت کر دیں تو مغفرت ہو جائے گی، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں اس وقت جو لوگ حاضر تھا ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر سے  آواز آئی قدغفرلک یعنی مغفرت کر دی گئی۔ (بحر محیط)(معارف القرآن ،تفسیر سورۃ النساء :64 ،جلد :دوم،مکتبۃ المعارف)

مصنف ابنِ ابی شیبۃ میں ہے :

"حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك (الدار) قال: وكان خازن عمر على الطعام قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر فجاء رجل إلى قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له: إئت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مسقيون، وقل له: عليك ‌الكيس! عليك ‌الكيس فأتى عمر فأخبره فبكى عمر، ثم قال: يا رب لا (آلو) إلا ما عجزت عنه."

(ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب -رضي الله عنه ،ج:18،ص:30 ،ط:داركنوزاشبيليا)

ترجمہ :"مالک دار جو  کہ غلے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خزانچی مقرر تھے،ان سے روایت ہے ،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے ،ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی قبر پر حاضر ہوئے ،اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ !آپ اپنی امت کے لیے بارش طلب فرمائیں ،کیوں کہ وہ (قحط سالی کے باعث)تباہ ہو گئی ہے ،پھر خواب میں نبی کریم ﷺ اُ س شخص کے پاس تشریف لائے ،اور فرمایا:عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو،اور انہیں بتاؤ کہ تم سیراب کیے جاؤ گے ،اور عمر سے (یہ بھی)کہہ دو کہ عقلمندی سے کام لیں ،،وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خبر دی ،تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روپڑے اور فرمایا :اے اللہ میں کوتائی نہیں کروں گا ،مگر یہ کہ میں عاجز آجاؤ ں۔"

دلائل النبوۃ للبیہقی میں ہے :

"أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك قال: أصاب الناس قحط في زمان عمر بن الخطاب، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله: استسق الله لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتاه رسول الله صلى الله عليه وسلم في المنام، فقال ائت عمر، فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مسقون. وقل له: عليك ‌الكيس ‌الكيس. فأتى الرجل عمر، فأخبره، فبكى عمر ثم قال: يا رب ما آلو إلا ما عجزت عنه."

(‌‌باب ما جاء في رؤية النبي صلى الله عليه وسلم في المنام،ج:7،ص:47 ،ط:دارالكتب العلمية)

تاریخِ دمشق لابنِ عساکر میں ہے :

"أخبرنا معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك الدار قال أصاب الناس قحط في زمان عمر بن الخطاب فجاء رجل إلى قبر النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال يا رسول الله استسق الله لأمتك فإنهم قد هلكوا فأتاه رسول الله (صلى الله عليه وسلم) في المنام وقال ائت عمر فاقرئه السلام وأخبره أنكم مسقون وقل له عليك ‌الكيس ‌الكيس فأتى الرجل فأخبر عمر (6) فبكى عمر ثم قال يا رب ما آلو إلا ما عجزت عنه."

(عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى.....،ج:44،ص:345 ،ط:دارالفكر)

الاستيعاب في معرفة الاصحاب لابنِ عبد البر ميں هے:

"وروى أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك الدار قال:أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا. قال: فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم في المنام، وقال: إيت عمر فمره أن يستسقي للناس، فإنهم سيسقون، وقل له: عليك ‌الكيس ‌الكيس [1] . فأتى الرجل عمر فأخبره، فبكى عمر، وقال: يا رب، ما آلو إلا ما عجزت عنه، يا رب، ما آلو إلا ما عجزت عنه."

(‌‌باب عمر‌‌(1878) عمر بن الخطاب- أمير المؤمنين رضى الله عنه،ج:3،ص:1149 ،ط:دارالجبل)

شفاء السقام للسبكي (ص: ٣٥٨)میں ہے:

"إن التوسل بالنبي صلي الله عليه وسلم جائز في كل حال قبل خلقه و بعد خلقه في مدة حياته في الدنيا و بعد موته في مدة البرزخ".

الدرالمنثور میں ہے :

"وأخرج البيهقي عن أبي حرب الهلالي قال: حج أعرابي إلى باب مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أناخ راحلته فعقلها ثم دخل المسجد حتى أتى القبر ووقف بحذاء وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله جئتك مثقلا بالذنوب والخطايا مستشفعا بك على ربك لأنه قال في محكم تنزيله (ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما) (النساء الآية 64)وقد جئتك بأبي أنت وأمي مثقلا بالذنوب والخطايا استشفع بك على ربك أن يغفر لي ذنوبي وأن تشفع في ثم أقبل في عرض الناس وهو يقول: يا خير من دفنت في الترب أعظمه فطاب من طيبهن القاع والأكم نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه فيه العفاف وفيه الجود والكرم."

(تفسير سورة النساء :64 ،ج:1،ص:570 ،ط:دارالفكر)

البحرالمحیط فی التفسیر میں ہے :

"وروي عن علي كرم الله وجهه أنه قال: قدم علينا أعرابي بعد ما دفنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام فرمى بنفسه على قبره وحثا من ترابه على رأسه ثم قال:

يا خير من دفنت في الترب أعظمه … فطاب من طيبهن القاع والأكم

نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه … فيه العفاف وفيه الجود والكرم

ثم قال: قد قلت: يا رسول الله فسمعنا قولك، ووعيت عن الله فوعينا عنك، وكان فيما أنزل الله عليك ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك الآية، وقد ظلمت نفسي وجئت أستغفر الله ذنبي، فاستغفر لي من ربي، فنودي من القبر أنه قد غفر لك."

(تفسير سورة النساء :64 ،ج:3،ص:692 ،ط:دارالفكر)

مسند أحمد  میں ہے:

"حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنْ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا" اللَّهُمَّ لَاتُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا."

(مسند أنس بن مالك رضى الله عنه، رقم الحديث:12683، ج:20، ص:114، ط:مؤسسة الرسالة)

"القول البدیع في الصلاة علی الحبیب الشفیع"  میں ہے:

"نحن نؤمن و نصدق بأنه صلي الله عليه وسلم حي يرزق في قبره، و أن جسده الشريف لاتأكله الأرض، و الإجماع علی هذا".

(الباب الرابع: رسول الله حي علي الدوام، ص: 167،ط: مطبعة الإنصاف)

الحاوی للفتاوی میں ہے:

"حياة النبي صلي الله عليه وسلم في قبره هو و سائر الأنبياء معلومة عندنا علماً قطعياً لما قام عندنا من الأدلة في ذلك، و تواترت به الأخبار الدالة علی ذلك".

( إنباء الأذكياء بحياة الأنبياء، ص: 545، ط: رشيدية)

اختلاف امت اور صراط مستقیم میں ہے :

’’ انبیاء کرام علیہم السلام خصوصا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں  میرا عقیدہ " حیات النبی " کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر صلوٰۃ وسلام پڑھنے اور شفاعت کی درخواست کا مسئلہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے ، اس لیے جس سعادت مندکو بارگاہ نبوت کے آستانۂ عالیہ پر حاضری نصیب ہو وہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دعا اور شفاعت کے لیے درخواست کرے تو میں اسے جائز بلکہ مستحسن سمجھتا ہوں ۔‘‘

(حصہ اول ، ص : 60/61/62،ط: مکتبہ بینات )

فتاوی رشیدیہ میں  ایک سوال کے جواب میں ہے :

’’قبر کے پا س جا کر کہے کہ اے فلاں تم میرے واسطے دعا کرو کہ حق تعالی میرا کام کردیوے اس میں اختلاف علماء کا ہے ،مجوز سماع موتی اس کے جواز کے مقر ہیں اور مانعین سماع منع کرتے ہیں سو اس کا فیصلہ اب کرنا محال ہے ، مگر انبیاء علیہم السلام کے سماع میں کسی کو خلاف نہیں اسی وجہ سے ان کومستثنی کیاہے اور دلیل جواز یہ ہے کہ فقہاء نے بعد سلام کے وقت زیارت قبر مبارک شفاعت مغفرت کا عرض  کرنا لکھا ہے پس جواز کے  واسطےیہ کافی ہے ۔‘‘

(کتاب العلم ، ص: 152، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام )

خیرالفتاوی میں ایک سوال کے جواب میں ہے :

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعاء مغفرت فرمادیں اور میری شفاعت فرمادیں اب بھی جائز اور مستحب ہے ، اس کا انکار جمہور اہلسنت کے خلاف ہے اور اس کا انکار کیسے صحیح ہوسکتا ہے جب کہ خیرالقرون سے اس کاثبوت ہے کسی سے نکیر منقول نہیں ہے ۔۔۔رہا یہ مسئلہ کہ پیغمبر خدا کی طرح بزرگوں کے مزارات پر جاکر دعا کرنا جائز ہے یا نہیں ، تو ظاہر ہے کہ جوسماع کے قائل ہیں ان کے نزدیک ممنوعیت کی کوئی وجہ نہیں اور جو قائل نہیں ہیں ان کے نزدیک ایسے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ، البتہ اگر لوگ اس میں غلو کرنے لگ جائیں اور اعتدال سے ہٹ جائیں تو علی الاطلاق ممنوع بھی قراردیا جاسکتا ہے ۔‘‘

(سوال : روضۂ اطہر پر استغفار کے بارے میں ، ج:1، ص: 159،ط: امدادیہ)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144505101078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں