بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پر کیا عذاب آیا تھا؟


سوال

حضرت صالح  علیہ السلام کی قوم پر آنے والا عذاب کیا تھا؟

جواب

واضح رہے کہ قومِ ثمود یعنی   حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں قرآن مجید میں کہیں صیحہ(چیخ کا عذاب) ،کہیں زلزلہ(رجفۃ) ، کہیں  صاعقہ اور کہیں  طاغیہ کا ذکر ہے، لہذا ان تمام میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ   جب  عذاب آیا تو اولاً حضرت جبریل علیہ السلام نے آسمان سے ایک چیخ ماری، اس چیخ کی وجہ سے زمین میں زلزلہ پیدا ہوگیا جس سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے، یعنی ہلاکت کا سبب زلزلہ(رجفة) اور زلزلے کا سبب چیخ(صیحة) ہے، پس کہیں تو آیات میں سببِ قریب یعنی رجفہ کو ذکر کر دیا ہے، اور کہیں سببِ بعید یعنی صیحہ کو ذکر فرما دیا ہے، اب رہ گیا تیسرا لفظ "صاعقة"، تو اس کے معنی لغت میں مطلق عذاب کے بھی آتے ہیں، ا س لیے بعض آیات میں عذاب کو "صاعقۃ" سے تعبیر فرمایا ہے، نیز اس عذاب کے لیے ایک چوتھا لفظ بھی آیا ہے"طاغیة"(بمعنی حد سے متجاوز) تو چوں کہ یہ عذاب حد سے متجاوز تھا  اس لیے اس کو طاغیۃ سے بھی تعبیر فرما دیا ہے، پس کوئی تعارض نہیں رہا۔

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ (٦٧)﴾ [هود: 67]

دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ (٧٨)﴾ [الأعراف: 78] 

تیسری جگہ ارشاد ہے:

﴿فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ (٤٤)﴾ [الذاريات: 44]

روح المعانی میں ہے : 

"فأما ثمود فأهلكوا أي أهلكهم الله تعالى. وقرأ زيد بن علي «فهلكوا» بالبناء للفاعل بالطاغية أي الواقعة المجاوزة للحد وهي الصيحة لقوله تعالى في [هود: 67] وأخذ الذين ظلموا الصيحة وبها فسرت الصاعقة في حم السجدة أو الرجفة لقوله سبحانه في [الأعراف: 78، 91] فأخذتهم الرجفة وهي الزلزلة المسببة عن الصيحة فلا تعارض بين الآيات لأن الإسناد في بعض إلى السبب القريب وفي بعض آخر إلى البعيد والأول مروي عن قتادة قال: أي بالصيحة التي خرجت عن حد كل صيحة، وقال ابن عباس وأبو عبيدة وابن زيد ما معناه الطاغية مصدر فكأنه قيل بطغيانهم وأيد بقوله تعالى كذبت ثمود بطغواها [الشمس: 11] والمعول عليه الأول لمكان قوله تعالى وأما عاد فأهلكوا بريح صرصر وإيضاح ذلك أن الآية فيها جمع وتفريق، فلو قيل أهلك هؤلاء بالطغيان على أن ذلك سبب جالب وهؤلاء بالريح على أنه سبب آلي لم يكن طباق."

(سورة الحاقة، ج:15، ص:46، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں