بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کب ہوئی تھی؟


سوال

حضرت رقیہ کی وفات کب ہوئی؟

جواب

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سن دو ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر ہوئی، غزوۂ بدر کے لیے روانگی سے قبل حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ( جو حضرت رقیہ کے شوہر  اور رسول اللہ ﷺ کے داماد ہیں) کو ان کی تیمار داری کی غرض سے مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا تھا، جس روز مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی، اسی روز حضرت رقیہ کا وصال ہوا، اور فتح  کی خبر جب مدینہ منورہ میں پہنچی، اسی وقت مسلمان حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین سے فارغ ہوئے تھے۔

البداية و النهاية لابن كثير   میں ہے:

"وَلَمَّا جَاءَتِ الْبِشَارَةُ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بِمَا أَحَلَّ اللَّهُ بِالْمُشْرِكِينَ وَبِمَا فَتَحَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَجَدُوا رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تُوُفِّيَتْ وَسَاوَوْا عَلَيْهَا التُّرَابَ.

وَكَانَ زَوْجُهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ أَقَامَ عِنْدَهَا يُمَرِّضُهَا بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم لَهُ بِذَلِكَ.

وَلِهَذَا ضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ فِي مَغَانِمِ بَدْرٍ وَأَجْرُهُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ زوَّجه بِأُخْتِهَا الْأُخْرَى أم كلثوم بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِهَذَا كَانَ يُقَالُ لِعُثْمَانَ بْنِ عفان ذو النورين ويقال إنه لم يغلق أَحَدٌ عَلَى ابْنَتَيْ نَبِيٍّ وَاحِدَةً بَعْدَ الْأُخْرَى غَيْرُهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ". ( فصل جمل من الحوادث سَنَةَ ثِنْتَيْنِ مِنَ الْهِجْرَةِ، ٣ / ٤١٩، ط: دار احياء التراث العربي) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں