بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سےمتعلق چند واقعات کی تحقیق


سوال

 ہمارے امام صاحب حج پر  گئے تھے ،ان کی جگہ تمام چیزیں نائب امام پر تھی ، 22 جولائی 2022ء بروز جمعہ انہوں نے تقریر کی حضرت اویس قرنی رحمۃ الله علیہ کے بارے میں ،جو میں نیچے تفصیل سےدے چکا ہوں۔

اس کے بعد ان سے اس بارے میں حدیث کا حوالہ پوچھا، انہوں نے کہا :میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے، آپ خود تلاش کیجیے، میں نے کہا :تقریر آپ نے کی ہے، تلاش میں کروں ،یہ کیا بات ہے ،اس کے بعد انہوں نے کہا، آپ تقریر سننے نہیں آتے ہیں، نقطہ چینی کرنے آتے ہیں ، یہ ساری باتیں واٹس ایپ پر ہے، کوئی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا ، جب ہمارے امام صاحب حج سے واپس آگئے ،جو الحمد للّہ مفتی ہیں، ان کے ساتھ میں نے اس بارے میں تذکرہ کیا،لیکن ابھی تک کوئی تشفّی بخش جواب نہیں ملا، یہ ساری باتیں میں اپنے مفتی صاحب کو تحریری شکل میں دے چکا ہوں، جواب نہ ملنے کی وجہ سے مجبورا ًآپ کے پاس لکھ رہا ہوں ۔

اصل پریشانی یہ ہے کہ میرے اندر سے دل اجازت نہیں دیتا کہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھوں ،میری اصلاح کریں اور میری الجھن دور کریں کہ میں کیا کروں ، اور اگر یہ تینوں احادیث صحیح ہیں تو برائے مہربانی حدیث کا حوالہ دیجیے،تاکہ سچائی سے میں بھی واقف ہو جاؤں اور اپنی غلطی کو سدھار لوں۔

1۔ پہلایہ کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت اویس قرنی رحمۃ الله علیہ کے درمیان خط و کتابت ہو ئی تھی کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا، اس کی وجہ میری ماں ہے ،ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔

2۔ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا کرتہ مبارک دیا اور کہا اس کو آپ لوگ حضرت اویس قرنی رحمۃ الله علیہ تک پہنچا دیں، اس کے بعد دونوں حضرات یمن گئے،لوگوں سے دریافت کیا ،لوگوں نے کہا ،یہ شخص تو جنگلوں میں رہتا ہے ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگلوں کی طرف گئے اور کرتہ مبارک ان کے حوالے کر دیا۔

3۔ جب غزوہ احد میں حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک شہید ہوئے تو حضرت اویس قرنی رحمۃالله علیہ نےاپنے سارے دانت توڑ دیئے۔

سوال یہ ہےکہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے، اس امام کے پیچھے نماز پڑھی  جاسکتی  ہے؟

جواب

واضح رہےکہ کتبِ احادیث میں   حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سےمتعلق حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےکچھ فرامین ملتےہیں،جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سےحضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کاتذکرہ اوران کےکچھ احوال ذکرکیےہیں،چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتاہے:

"عن ‌أسير بن جابر قال: " كان ‌عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن سألهم أفيكم أويس بن عامر؟ حتى أتى على أويس فقال: أنت أويس بن عامر؟ قال: نعم. قال: من مراد ثم من قرن؟ قال: نعم. قال: فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم؟ قال: نعم. قال: لك والدة؟ قال: نعم. قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن، من مراد ثم من قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره، فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل ، فاستغفر لي! فاستغفر له،فقال له عمر: أين تريد؟ قال: الكوفة.

قال: ألا أكتب لك إلى عاملها؟ قال: أكون في غبراء الناس أحب إلي.

قال: فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم فوافق عمر، فسأله عن أويس، قال: تركته رث البيت قليل المتاع.

قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن، من مراد ثم من قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره، فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل. فأتى أويسا فقال: استغفر لي! قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح، فاستغفر لي،قال: استغفر لي! قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح، فاستغفر لي.

قال: لقيت عمر؟ قال: نعم. فاستغفر له، ففطن له الناس فانطلق على وجهه."

قال أسير: وكسوته بردة، فكان كلما رآه إنسان قال: من أين ‌لأويس ‌هذه ‌البردة .؟"

(الصحيح لمسلم، باب من فضائل أويس القرني، 189/7، ط: دارالطباعة العامرة)

ترجمہ:"اسیر بن جابر کہتے ہیں: " جب بھی یمن  کے حلیف قبائل  عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو عمران سے دریافت کرتے: "کیا تم میں اویس بن عامر ہے؟" ایک دن اویس بن عامر کو پا ہی لیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:  "تم اویس بن عامر  ہو؟" انہوں نے کہا: "ہاں!"
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:  "قرن قبیلے کی شاخ مراد سے ہوں؟" انہوں نے کہا: "ہاں!"
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:  "تمہیں برص کی بیماری لاحق تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے، صرف ایک درہم  کے برابر جگہ باقی ہے؟" انہوں نے کہا: "ہاں"
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:  "تمہاری والدہ ہے؟" انہوں نے کہا: "ہاں!"
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث نبوی  سنائی: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: (تمہارے پاس  یمن کے حلیف قبائل کے ساتھ  اویس بن عامر آئے گا، اس کا تعلق قرن قبیلے کی شاخ مراد سے ہوگا، اسے برص کی بیماری لاحق تھی، جو کہ ختم ہو چکی ہے، صرف ایک درہم  کے برابر باقی ہے،  وہ اپنی والدہ  کے ساتھ نہایت نیک سلوک کرتا ہے، اگر اللہ تعالی پر  قسم  بھی ڈال دے تو اللہ تعالی اس کی قسم پوری فرما دے گا، چنانچہ اگر  تم اس سے اپنے لیے استغفار کروا سکو ،تو  لازمی کروانا) لہذا اب آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کر یں، تو انہوں نے  عمر رضی اللہ عنہ  کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: "آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟"
انہوں نے کہا: "میں کوفہ جانا چاہتا ہوں۔"
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "کیا کوفہ کے گورنر کے نام خط نہ لکھ دوں؟ [آپ اسی کی مہمان نوازی میں رہو گے]۔"
تو انہوں نے کہا: "میں گم نام  رہوں  تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔"
راوی کہتے ہیں: جب آئندہ سال  حج کے موقع پر  انکے قبیلے کا سربراہ ملا ، اور اس کی ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اویس قرنی کے بارے میں استفسار کیا، تو اس نے جواب دیا کہ:  "میں اسے کسمپرسی اور ناداری کی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں۔"
تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بھی حدیث نبوی  سنائی: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: (تمہارے پاس  یمن کے حلیف قبائل کے ساتھ  اویس بن عامر آئے گا، اس کا تعلق قرن قبیلے کی شاخ مراد سے ہوگا، اسے برص کی بیماری لاحق تھی، جو کہ ختم ہو چکی ہے، صرف ایک درہم  کے برابر باقی ہے،  وہ اپنی والدہ کیساتھ نہایت نیک سلوک کرتا ہے، اگر اللہ تعالی پر  قسم  بھی ڈال دے تو اللہ تعالی اس کی قسم پوری فرما دے گا، چنانچہ اگر  تم اس سے اپنے لیے استغفار کروا سکو ،تو  لازمی کروانا)۔
یہ آدمی بھی واپس جب اویس قرنی کے پاس آیا تو کہا: "میرے لیے دعائے استغفار کر دو۔"
اویس قرنی نے کہا: "تم  ابھی نیک سفر سے آئے ہو تم میرے لیے استغفار کرو۔"
اس نے پھر کہا: "میرے لیے  استغفار کرو۔"
اویس قرنی نے پھر وہی جواب دیا: "تم  ابھی نیک سفر سے آئے ہو تم میرے لیے استغفار کرو۔"
اور مزید یہ بھی کہا کہ: "کہیں تمہاری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے تو نہیں ہوئی؟"
آدمی نے کہا: "ہاں میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ہے۔"
تو  اویس قرنی نے  ان  کے لیے استغفار کر دیا، اور پھر لوگوں کو اویس قرنی کے بارے میں معلوم ہونا شروع ہوگیا، تو اویس قرنی  اپنا علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اس قصے کے راوی اسیر کہتے ہیں:  "میں نے انہیں ایک [خوبصورت]لباس دیا، تو جب بھی کوئی شخص انکا لباس دیکھتا تو کہتا: "اویس کے پاس یہ لباس کہاں سے آگیا۔"

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ان کےبارےمیں آتاہے:

"عن ‌عمر بن الخطاب قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « إن خير التابعين رجل يقال له أويس، وله والدة، وكان به بياض، فمروه فليستغفر لكم »."

(الصحيح لمسلم، باب من فضائل أويس القرني، 189/7، ط: دارالطباعة العامرة)

ترجمہ:"تابعین میں سے بہترین انسان وہ شخص ہے جسے اویس کہتے ہیں، اس کی والدہ (زندہ) ہے اور اس (کے جسم) میں سفیدی ہے۔ اس سے کہو کہ تمہارے  لیے دعا کرے۔"

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اویس رحمہ اللہ مستجاب الدعوات تھے یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی دعا خاص طورپر قبول فرماتا تھا۔

صحیح مسلم کی دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر نہ ہوسکے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی شامل تھی۔

مذکورہ بالااوران کےعلاوہ دیگر احادیث میں حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کےمختلف احوال کاتذکرہ ملتاہے،البتہ کافی تتبع اورتلاش کےباوجود  حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کےدرمیان خط و کتابت کاتذکرہ اوراسی طرح حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاحضرت عمرفاروق اورحضرت علی رضی اللہ عنہماکواپناکرتہ دینےاورحضرت اویس قرنی رحمہ اللہ تک پہنچانےکاتذکرہ کہیں  نہیں ملا۔ واللہ اعلم

اسی طرح حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا اپنے دانت توڑنے کا واقعہ بھی درست نہیں۔

اس واقعہ کو سب سے پہلے "تذكرة الأولياء" میں فخر الدین العطار المتوفی 607 ہجری نے نقل کیا ہے جو کہ ایک سنی عالم تھے، انہوں نے بغیر سند کے اسے نقل کیا ہے:

"ثم قال لهما: أنتما محبّي محمد، فهل كسرتم شياَ من أسنانكم كما كسر سنه عليه السلام؟ قالا: لا. فقال: إني قد كسرت بعض أسناني موافقةً له".

 (تذكرة الأولياء، ص 44)

ترجمہ:" پھر اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا کہ کیا تم محمد ﷺ کے محب ہو؟  کیا تم نے اپنے دانت توڑے  جیسے کہ ان کے دانت ٹوٹے تھے؟ دونوں نے کہا: نہیں۔ پھر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے کچھ دانتوں کو توڑا تھا جیسا کہ نبی ﷺ کے دانت ٹوٹے تھے۔"

اس کے علاوہ، علی بن ابراہیم حلبی نے "السیرة الحلبیة" میں شعرانی کی "الطبقات الكبرى"سے نقل کیا ہے:

"وقد روى … قال: والله ما كسرت رباعيته صلى الله عليه وسلم حتى كسرت رباعيتي، ولا شج وجهه حتى شج وجهي ولا وطئ ظهره حتى وطئ ظهري. هكذا رأيت هذا الكلام في بعض المؤلفات، والله أعلم بالحال هذا كلامه".

ترجمہ:" اور مروی ہے کہ ۔۔۔ اویس قرنی رحمہ اللہ نے کہا کہ میں اپنے دانت توڑوں گا جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا دانت ٹوٹا۔ اور میں اپنے چہرے کو چوٹ پہنچاؤں گا جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو چوٹ پہنچی۔ اور میں اپنی کمر پر قدم رکھواؤں گا جیسے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی کمر پر قدم رکھے۔ (مصنف فرماتے ہیں) میں نے اس روایت کو اس طرح سے بعض کتب میں دیکھا ہے اور اللہ ﷻ بہتر جانتا ہے اس کا حال (کہ یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں)۔"

علی بن ابراہیم حلبی نے مزید اس پر کلام کیا:

"ولم أقف على أنه عليه الصلاة والسلام وطىء ظهره في غزوة أحد."

 (السيرة الحلبية، ج 2، ص 548)

ترجمہ:" میں نے یہ بات کہیں بھی نہیں پائی کہ آں حضرت ﷺ کی کمر پر قدم رکھے ہوں لوگوں نے غزوہ احد میں۔"

ملا علی قاری رحمہ اللہ   نے اپنی کتاب"المعدن العدني في فضل أويس القرني" میں نقل کیا ہے:

"اعلم أن ما اشتهر على ألسنة العامة من أن أويساً قلع جميع أسنانه لشدة أحزانه حين سمع أن سنّ النبي صلى الله عليه وسلم أصيب يوم أحد ولم يعرف خصوص أي سن كان بوجه معتمد، فلا أصلَ له عند العلماء مع أنه مخالف للشريعة الغراء، ولذا لم يفعله أحد من الصحابة الكبراء على أن فعله هذا عبث لايصدر إلا عن السفهاء".

(المعدن العدني في فضل أويس القرني، ص 403)

ترجمہ: "جان لو کہ لوگوں کی جانب سے جو مشہور کیا جاتا ہے کہ اویسِ قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ دیے تھے رسول اللہ ﷺ کے دندان کے ٹوٹنے کے غم میں؛ کیوں کہ انہیں متعین طور پر  معلوم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کا کون سا دانت ٹوٹا ہے (تو سارے توڑ دیے)۔ علماء کے نزدیک اس بات کی کوئی بنیاد نہیں، اور یہ خلافِ شریعت ہے۔ اس ہی وجہ سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے (جو اعلیٰ درجے کے عاشق تھے) کسی نے بھی ایسا نہ کیا؛ کیوں کہ یہ ایک عبث فعل ہے اور نادان لوگوں سے ہی صادر ہوسکتا ہے۔ "

خلاصۂ کلام یہ ہےکہ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سےمتعلق سوال میں ذکرکردہ  تینوں امورکاثبوت نہیں ملتا،لہٰذاجان بوجھ کر ان واقعات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرناناجائزاورگناہ ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ امام کےلیےضروری ہےکہ وہ ان واقعات کوبیان کرنےسےاجتناب کرے،نیزمذکورہ امام صاحب کوحکمت ومصلحت سےسمجھایاجائے،اگروہ ان واقعات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنےسےمنع ہوکر تائب ہوجائے تو پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنابلاکراہت جائز ہےا ور اگر باخبرہونےکےباوجود بھی وہ ان واقعات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتاہوں توپھران کے  پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔

حاشیۃ طحطاوی میں ہے:

"كره إمامة "الفاسق" العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه."

(کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان الأحق بالإمامة، ص:303، 304، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں