بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریائے نیل میں راستہ ملا تھا یا بحر قلزم میں؟


سوال

 وہ کون سا دریا تھا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ پار کیا تھا؟ جب آپ علیہ السلام نے بحکم خدا دریا میں اپنا عصا مارا تھا تو دریا معجزاتی طور پر پھٹ گیا تھا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہو گیا تھا اور بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مصر کی حدود سے باہر نکل گئے تھے دریائے نیل یا بحر احمر یعنی لال ساگر؟ براہِ  کرم مستند ذرائع کتبِ  احادیث و تفاسیر سے بتائیں؟

جواب

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو جس جگہ سمندر میں راستہ بنا کر فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی وہ  "بحر قلزم"  ہے، جس کا دوسرا نام "بحر احمر"  بھی ہے،  یہ  جبلِ طور کے قریب مصر سے مشرقی جانب ہے، اس کا موجودہ نام  "خلیج سوئز" ہے۔

روح البيان (3/ 225):

"وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ فاعل بمعنى فعل يقال جاوز وجاز بمعنى واحد وجاوز الوادي إذا قطعه وجاوز بغيره البحر عبربه فالباء هنا معدية كالهمزة والتشديد فكأنه قال وجزنا ببني إسرائيل البحر اى اجزناهم البحر وجوزناهم بالفارسية [وبگذرانيديم بنى إسرائيل را از دريا بسلامت] والمراد بحر القلزم، و اخطأ من قال: إنه نيل مصر، قال فى القاموس: القلزم كقنفذ بلد بين مصر و مكة قرب جبل الطور و إليه يضاف بحر القلزم؛ لانه على طرفه أو لأنه يبتلع من ركبه لأن القلزمة الابتلاع- روى- أنه عبر بهم موسى عليه السلام يوم عاشوراء فصاموا شكرًا لله تعالى."

صفوة التفاسير (1/ 434):

"قال تعالى: {وَجَاوَزْنَا ببني إِسْرَآئِيلَ البحر} أي عبرنا ببني إِسرائيل البحر وهو بحر القُلْزم عند خليج السويس الآن."

تفسير القاسمي = محاسن التأويل (5/ 175):

"القول في تأويل قوله تعالى: [سورة الأعراف (7) : آية 138]

{وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلى أَصْنامٍ لَهُمْ قالُوا يا مُوسَى اجْعَلْ لَنا إِلهاً كَما لَهُمْ آلِهَةٌ قالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} (138)

وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ أي الذي أغرق فيه أعداءهم، وهو بحر القلزم ك (قنفذ) ، بلد كان في شرقيّ مصر، قرب جبل الطور، أضيف إليه، لأنه على طرفه، ويعرف البلد الآن ب (السويس) ومن زعم أن البحر هو نيل مصر، فقد أخطأ، كما في (العناية)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201184

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں