بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مہر


سوال

حضوراکرم ﷺنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کو کتنے اوقیہ حق مہر دیا تھا؟

جواب

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے مہر کے بارے میں سیرت کی کتب میں مختلف اقوال ذکر کیے گئے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش   مقرر کیا گیا تھاجو ٹوٹل پانچ سو درہم بنتے ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ مہر میں بیس جوان اونٹ دیے گئے تھے۔

ان دوں اقوال میں یہ  تطبیق دی گئی ہے کہ ممکن ہے  کہ بیس جوان اونٹ مذکورہ پانچ سو درہم کے عوض ہو، اور بعض  کہتے ہیں کہ ابو طالب نے مذکورہ مہر دیا اور آپ ﷺ نے اپنی طرف سے اونٹ دیے تھے۔

السيرة الحلبية "میں ہے:

"وقد خطب إليكم رغبة في كريمتكم خديجة، وقد بذل لها من الصداق ما عاجله وآجله اثنتي عشرة أوقية ونشا: أي وهو عشرون درهما والأوقية: أربعون درهما، أي وكانت الأواقي والنش من ذهب كما قال المحب الطبري: أي فيكون جملة الصداق خمسمائة درهم شرعي. وقيل أصدقها عشرين بكرة، أي كما تقدم.

أقول: لا منافاة لجواز أن تكون البكرات عوضا عن الصداق المذكور. وقال بعضهم: يجوز أن يكون أبو طالب أصدقها ما ذكر وزاد صلى الله عليه وسلم من عنده تلك البكرات في صداقها فكان الكل صداقا، والله أعلم."

(‌‌باب: تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة بنت خويلد رضي الله عنها، ج:1، ص:202، ط:دار الكتب العلمية)

سبل الھدیٰ میں ہے:

"وكان صداقها ‌عشرين ‌بكرة، ‌وكانت ‌أول امرأة تزوجها ولم يتزوج عليها غيرها حتى ماتت رضي الله عنها."

(‌‌زواجه من خديجة،ج:1، ص:9، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں