بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربانی کے لیے بھیجا گیا مینڈھے کا گوشت کہاں گیا یا کس نے کھایا؟


سوال

 اللہ تعالی نے جنت سے جو مینڈھا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربانی کیےلیے بھیجا ،تو اس کا گوشت کہاں گیا یا کس نے کھایا؟

جواب

کچھ روایتوں سےمعلوم ہوتا ہے، کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو مینڈھا ذبح کیا گیا اس کا گوشت چرند پرند نے کھالیااور یہ بھی کہا جاتاہے کہ ہوسکتاہےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی کھایا ہو اور صدقہ کردیاہو، لیکن اس طرح کے سوالات (جس کا نہ دینی فائدہ ہواور نہ ہی دنیاوی فائدہ ہو)سے اجتناب کر کے اپنے قیمتی وقت کو حصولِ علم و عبادات میں صرف کرنا چاہیےاس طرح کےفضول سوالات کرنا مکروہ ہے۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن المغيرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات، ووأد البنات، ومنع وهات. وكره لكم قيل وقال، وكثرة السؤال، وإضاعة المال."

(كتاب الآداب، باب البر والصلة، ج:7، ص:3081، ط:دار الفكر بيروت)

فتح البیان فی مقاصد القرآن :

"وفديناه بذبح عظيم الذبح اسم المذبوح...قال أكثر المفسرين ومنهم ابن عباس أنزل عليه كبش قد رعى في الجنة أربعين خريفاً ...ومن المعلوم المقرر أن كل ما هو من الجنة لا تؤثر فيه النار فلم يطبخ ‌لحم ‌الكبش بل أكلته السباع والطيور تأمل."

(ج: 11، ص: 414، ط: المكتبة العصريَّة للطباعة والنّشربيروت)

صحیح وضعیف تاریخ طبری میں ہے:

"فلم يزل ذلك ‌الكبش محبوسا عند الله عز وجل حتى أخرجه في فداء إسحاق، فذبحه على هذا الصفا، في ثبيرعند منزل سمرة الصواف، وهو على يمينك حين ترمي الجمار."

(‌‌ذكر الأحداث التي كانت في عهد آدم - عليه السلام - بعد أن أهبط إلى الأرض، ج:٦، ص:٨٨، ط:دار ابن كثير دمشق)

تفسیرحدائق الروح و الریحان میں ہے:

"وقد بقي قرناه معلقين على الكعبة إلى أن احترق البيت في زمن ابن الزبير. قال الشعبي: رأيت قرني الكبش منوطين بالكعبة. وقال ابن عباس والذي نفسي بيده لقد كان أول الإسلام، وأن رأس الكبش لمعلق بقرنية في ميزاب الكعبة وقد يبس، اهـ الخازن. ومن المعلوم المقرر، أن كل ما هو من الجنة لا تؤثر فيه النار، فلم يطبخ ‌لحم ‌الكبش، بل أكلته السباع والطيور، تأمل."

(ج:٢٤، ص:٢٧٢، ط:دار طوق النجاة بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411100360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں