بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابراہیم نخعی رحمه الله کے قول :’’اگر بالفرض میں قاتلینِ حسین میں شریک ہوتا۔۔۔ الخ‘‘ کی تخریج


سوال

کیا درج ذیل قول"المعجم الكبير للطبراني"(ج:۳)میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں: 

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ الله ( ۱۹۶ھ) فرماتے ہیں :’’اگر ( بالفرض ) میں قاتلینِ حسین رضی الله عنہ میں شریک ہوتااور میرا یہ جرم معاف ہوجاتا ،پھر میں جنت میں داخل بھی ہوجاتا ، تب بھی نبی کریم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ  کا جوقول ذکرکرکے اس کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول "المعجم الكبير للطبراني"، "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"، "تاريخ مدينة دمشق"، "الإصابة في تمييز الصحابة"میں   الفاظ  کے معمولی فرق کے ساتھ  مذکور ہے۔ "المعجم الكبير للطبراني"میں یہ قول درج ذیل الفاظ  میں مذکور ہے:

"حدّثنا محمّد بنُ عبد الله الحضرميُّ، ثنا عثمان بنُ أبي شَيبة، ثنا سعيد بنُ خُثيم، عن محمّد بن خالد الضبيِّ عن إبراهيم، قال: لو كُنتُ فِيمن قَتل الحُسين بن عليِِّ، ثمّ غُفر لي، ثم أُدخلتُ الجنّة، استحييتُ أنْ أمُرَّ على النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم-، فَينظُرَ في وجهي".

(المعجم الكبير، باب الحاء، ترجمة: الحسين بن علي بن أبي طالب، 3/112، رقم:2829، ط: مكتبة ابن تيمية)

ترجمہ:

’’(حضرت) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:اگر بالفرض میں قاتلین ِ حسین بن علی رضی اللہ عنہ  میں ہوتا،پھر میری مغفرت ہوجاتی اور میں جنت میں بھی داخل ہوجاتاتو میں اس  بات میں شرم محسوس کرتاکہ میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم  پرگزرہو اور آپ میراچہرہ دیکھیں‘‘۔

حافظ نورالدین ہیثمی رحمہ اللہ "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"میں مذکورہ قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"رواه الطبرانيُّ، ورِجالُه ثقاتٌ".

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب المناقب،  باب مناقب الحسين بن علي،  9/195، رقم:15147، ط: مكتبة القدسي-القاهرة)

ترجمہ:

’’ اس قول کو (امام) طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔اور اس کے رجال (روات) ثقہ ہیں‘‘۔

حافظ ابنِ حجر رحمه الله "الإصابة في تمييز الصحابة"میں لکھتے ہیں:

"قلت وقد صنّف جماعةٌ مِن القُدماء في مَقتل الحسين تصانيفَ، فيها الغثُّ والسمينُ والصحيح والسقيم ... وقد صحّ عن إبراهيم النخعيِّ أنّه كان يقولُ: لو كُنتُ فِيمن قَاتل الحُسين، ثمّ أُدخلتُ الجنّةَ لَاستحييتُ أنْ أنظُرَ إلى وجه رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-".

(الإصابة، الحاء بعدها السين، 2/81، ط: دار الجيل-بيروت)

ترجمہ:

’’میں (حافظ ابنِ حجر  رحمہ اللہ) کہتا ہوں:متقدمین کی ایک  جماعت    نے( حضرت) حسین رضی اللہ عنہ  کے مقتل(کربلا) سے متعلق   تصنیفات کیں ہیں، جن میں رطب ویابس اورصحیح وسقیم (کمزور) باتیں ہیں۔۔۔(حضرت ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ وہ فرماتے تھے:اگر بالفرض میں قاتلینِ حسین میں ہوتا،پھر میں جنت میں بھی داخل ہوجاتا تومیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاچہرہ  اَنور کی  طرف دیکھنے میں شرم محسوس کرتا‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا یہ قول سند کے اعتبار سے صحیح ہے اور اس  کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں