بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کتنی شادیاں کی تھی؟


سوال

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کتنی شادیاں کیں ؟

جواب

تاریخ کی کتب میں حضرتِ حسین رضی اللہ عنہ کی چاربیویوں کے متعلق تذکرہ ملتاہے، جن کے نام یہ ہیں:شہربانو،لیلی،رباب،ام اسحاق۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ازواج کےمتعلق اتنامعلوم ہےکہ ایک کانام شہربانو،دوسری کانام لیلی،تیسری کانام رباب،چوتھی کانام ام اسحاق تھا، شہادت کے وقت دوبیویاں ساتھ تھیں، ایک کانام شہربانو دوسری کانام تحریرنہیں،حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے فتاوی عزیزی میں یہ تفصیل لکھ کر فرمایاہے:وصالِ دیگر ازواج معلوم نیست کہ دران وقت زندہ بودند یامردہ؟۔کل کتنی عورتوں سے نکاح کیا ؟پھر کسی کو طلاق دی یانہیں؟اور کس کس کا ان کے سامنے انتقال ہوا؟ یہ تفصیل معلوم نہیں۔۔۔"الخ

(کتاب السیر والتاریخ،ج:4،ص:526/ 527،ط:ادارۃ الفاروق)

''المغرب فی ترتیب المعرب'' میں ہے:

"(ش هـ ب ن) : (شهبانو) وفي أنساب الطالبية ‌شهربانو بنت يزدجرد بن كسرى أم زين العابدين زوج الحسين بن علي - رضي الله عنهم - ويقال لها شهربانويه وجيداء وغزالة."

(باب الشین،الشین مع الہاء،ص:259،ط:دارالکتاب العربی)

''البدایۃ والنہایۃ'' میں ہے:

"وكان أول قتيل قتل من بني أبي طالب يومئذ علي الأكبر ابن الحسين بن علي، وأمه ليلى بنت أبي مرة بن عروة بن مسعود الثقفي.''

"(مقتل الحسین بن علی،صفۃ مقتلہ۔۔ج:11،ص:545،ط:دار هجر للطباعہ والنشر والتوزيع)

''مقاتل الطالبین''میں ہے:

"وعبد الله بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب عليه السلام يكنى أبا محمد  .وأمه فاطمة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب.وأمها أم إسحاق بنت طلحة بن عبيد الله."

(عصربنی امیۃ،عبداللہ بن الحسن بن الحسن،ص:166،ط:دارالمعرفۃ)

''تاریخ دمشق'' لابن عساکر میں ہے:

"رباب بنت امرئ القيس بن عدي بن أوس بن جابر ابن كعب بن عليم بن هبل بن عبد الله بن كنانة الكلبية زوج الحسين بن علي بن أبي طالب عليه السلام وأم ابنته سكينة."

(رباب بنت امرء القیس،ج:59،ص:119،ط:دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں