بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل کس نے دیا تھا؟


سوال

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل کس نے دیا تھا؟

جواب

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے جسد خاکی  کو ان کی وصیت کے مطابق حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے  غسل دیا  اور  حضرت سلمیٰ ام رافع اور امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہن بھی ان کے غسل میں شریک تھیں، اور حضرت علی رضی اللہ نے ان کے ساتھ انتظام وانصرام مثلاً سامان، پانی وغیرہ لانے میں تعاون کیا تھا، اسی وجہ سے بعض روایات میں غسل دینے کی نسبت (مجازاً) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کردی گئی ہے۔ راجح بات یہی ہے۔ البتہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انہیں غسل دینا ثابت ہو تو یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت ہوگی، جیساکہ بعض روایات میں موجود ہے۔

البداية والنهاية میں ہے:

"ولما حضرتها الوفاة أوصت إلى أسماء بنت عميس - امرأة الصديق - أن تغسلها فغسلتها هي وعلي بن أبي طالب وسلمى أم رافع، قيل والعباس بن عبد المطلب."

(‌‌كتاب تاريخ الإسلام، ج:6، ص:366، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في شرح المجمع لمصنفه: فاطمة -رضي الله تعالى عنها- غسلتها أم أيمن حاضنته صلى الله عليه وسلم ورضي عنها، فتحمل رواية الغسل لعلي -رضي الله تعالى عنه- على معنى التهيئة والقيام التام بأسبابه، ولئن ثبتت الرواية فهو مختص به، ألا ترى «أن ابن مسعود -رضي الله عنه- لما اعترض عليه بذلك أجابه بقوله: أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن فاطمة زوجتك في الدنيا والآخرة»، فادعاؤه الخصوصية دليل على أن المذهب عندهم عدم الجواز اهـ. مطلب في حديث: «كل سبب ونسب منقطع إلا سببي ونسبي».

قلت: ويدل على الخصوصية أيضاً الحديث الذي ذكره الشارح وفسر بعضهم السبب فيه بالإسلام والتقوى، والنسب بالانتساب ولو بالمصاهرة والرضاع، ويظهر لي أن الأولى كون المراد بالسبب القرابة السببية كالزوجية والمصاهرة وبالنسب القرابة النسبية؛ لأن سببية الإسلام والتقوى لاتنقطع عن أحد، فبقيت الخصوصية في سببه ونسبه صلى الله عليه وسلم  ولهذا قال عمر -رضي الله تعالى عنه-: فتزوجت أم كلثوم بنت علي لذلك." 

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:198، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100633

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں