بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق مسلمانوں، عیسائیوں اور قادیانیوں کے عقائد


سوال

1۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات کیا ہیں؟

2۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے عقائد کیا کیا ہیں؟

3۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں صحیح اسلامی عقیدہ کیا ہے؟


جواب

1۔مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کا حضرت عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں یہ نظریہ ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور یہ عقیدہ اس نے بتدریج گڑھا تھا، ابتدا  میں وہ بھی حیاتِ عیسی کا قائل تھا، لیکن جب اس کو اپنی نبوت کا دعوی کرنا تھا، تو  بتدریج اس نے حضررت عیسٰی علیہ السلام کی حیات کا انکار کیا اور بالآخر آپ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہوگیا۔

آئینہ قادیانیت میں ہے:

"مرزا غلام احمد قادیانی ابتدا  میں خود حیاتِ عیسٰی علیہ السلام کا قائل تھا اور قرآن مجید کی آیات  سے مسیح علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتا تھا۔

"یہ آیت (هو الذي ارسل رسوله) جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کا ملہ دینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا  اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے، تو ان کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔"

(براہینِ احمدیہ، ج:1، روحانی خزائن، ج:1، ص:593، ومثلہ بادنٰی تغیر چشمہ معرفت درروحانی خزان، ج:23،  ص:91)

حیات مسیح علیہ السلام کا ابتدا میں مرزا قائل تھا، لیکن دعوٰی نبوت کے لیے اس نے بتدریج مراحل طے کیے، پہلے خادمِ اسلام، پھر مبلغِ اسلام، مامور من اللہ، مجدد ہونے کے دعوے کیے، اصل مقصود دعوٰی نبوت تھا، منصوبہ بندی یہ کی کہ پہلے مثیل مسیح ہونے کا دعوٰی کیا جائے، مسیح بننے کے لیے حیاتِ عیسٰی علیہ السلام کا عقیدہ رکاوٹ تھا، اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے وفاتِ مسیح کا عقیدہ تراشا، پھر کہا چوں کہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کا آنا ثابت ہے۔ وہ فوت ہوگئے ہیں، تو ان کی جگہ میں مثیل مسیح بن کا آیا ہوں اور میں ان سے افضل ہوں، اس کا مشہور شعر ہے:

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                "ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو                                                                                                                    اس سےبہتر غلام احمد ہے"

(دافع البلا، ص:24، روحانی خزائن، ص:240، ج:18)

جب مرزا اپنے خیالِ فاسد میں مسیح بن گیا، تو کہا کہ مسیح علیہ السلام نبی تھے، تو اب مسیح ثانی (مرزا قادیانی) جو ان سے افضل ہے، وہ کیوں نبی نہیں؟ لہٰذا میں نبی ہوں، اس طرح دجل کر کے محض نبوت کا دعوٰی کرنے کے لیے اس نے وفات مسیح کا عقیدہ اختیار کیا۔" 

(ص:158- 160، ط:عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت)

2۔حضرت عیسٰی علیہ السلام سے متعلق عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نعوذ باللہ عیسٰی علیہ السلام اللہ کے بیٹے خدا ہیں، اسی طرح یہ بھی عقیدہ ہے کہ ان کو یہودیوں نے (نعوذ باللہ) قتل کردیا تھا، لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ زندہ ہوکر آسمانوں کی طرف چلے گئے تھے۔

قرآن کریم میں ہے:

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ  ذٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ   [التوبة:30]

تفسیر قرطبی میں ہے:

"وظاهر قول النصارى أن ‌المسيح ‌ابن ‌الله، إنما أرادوا بنوة النسل كما قالت العرب في الملائكة. وكذلك يقتضي قول الضحاك والطبري وغير هما. وهذا أشنع الكفر. قال أبو المعالي: أطبقت النصارى على أن المسيح إله وأنه ابن إله. قال ابن عطية: ويقال إن بعضهم يعتقد ها بنوة حنو ورحمة. وهذا المعنى أيضا لا يحل أن تطلق البنوة عليه وهو كفر."

(سورة التوبة، ج:8،ص:117، ط:دار الكتب المصرية)

عیسائیت کیا ہے؟ نامی کتاب میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:

"یہاں تک یہودیوں نے آپ کو سولی پر چڑھا دیا، اس وقت یہ خدائی اقنوم ان کے جسم سے الگ ہوگیا، پھر تین دن کے بعد آپ پھر دوبارہ زندہ ہو کر حواریوں کو دکھائی دیے اور انہیں کچھ ہدایتیں دے کر آسمان پر تشریف لے گئے۔"

(عیسائیت کیا ہے؟، ص:29، ط:دار الاشاعت، کراچی)

3۔حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق درست اور اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بندے اس کے نبی اور رسول ہیں اور  اللہ تعالٰی نے ان کو یہود و نصاری کی سازش اور مکر وفریب سے محفوظ رکھ کر انہیں آسمانوں کی طرف اُٹھا لیا ہے اور وہ آسمانوں پر حیات ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ اللہ کے حکم سے دنیا میں تشریف لائیں گے، یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے ۔

اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی حیات سے متعلق  قرآن کریم کی آیات اور بے شمار  احادیث وارد ہوئی ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں ہے:

﴿ وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ ؕ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًا ﴿۱۵۷﴾ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ ؕ  وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا ﴿۱۵۸﴾ وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَکُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا ﴿۱۵۹
ترجمہ :  "اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول (علیہ السلام) تھا اللہ کا، اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا، لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں، اور اس کو قتل نہیں کیا  بے شک،  بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا، اور جتنے فرقے ہیں اہلِ کتاب کے سو عیسیٰ (علیہ السلام) پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔"

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

" عن أبي هريرة، رفعه قال: «لا تقوم ‌الساعة حتى ‌ينزل ‌عيسى ابن مريم حكما مقسطا وإماما عادلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد."

(كتاب الفتن، ج:7، ص:494، ط:دار التاج)

المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے:

"عن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أهبط الله إلى الأرض منذ خلق آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أعظم من فتنة الدجال، وقد قلت فيه قولا لم يقله أحد قبل: إنه آدم، جعد، ممسوح عين اليسار، على عينه طفرة غليظة، وإنه يبرئ الأكمه والأبرص، ويقول: أنا ربكم، فمن قال: ربي الله، فلا فتنة عليه، ومن قال: أنت ربي، فقد افتتن، يلبث فيكم ما شاء الله، ثم ينزل عيسى ابن مريم مصدقا بمحمد صلى الله عليه وسلم، وعلى ملته مات، إماما مهديا، وحكما عدلا، فيقتل الدجال."

(ج:5، ص:27، ط:دار الحرمين)

مندرجہ بالا مسائل سے متعلق مزید تفصیل کے لیے  درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا:

1-  علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا  رسالہ  : ”عقیدة الإسلام في حیاة عیسی علیه السلام‘‘

2- علامہ سیوطی کا رسالہ  : ’’كتاب الإعلام بحکم عیسی علیه السلام‘‘

3- حضرت مولانا ادریس کاندھلوی صاحب کی کتاب :”حیات عیسیٰ علیہ السلام"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں