بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حضرت بلال کے اذان نہ دینے پر سورج کا طلوع نہ ہونا


سوال

حضرت بلال کا جو واقعہ مشہور ہے کہ  حضرت نے  اذان نہیں دی تھی تو سورج نہیں نکلا اس واقعے کی کیا حقیقت ہے جواب دیکر مہربانی کرے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  ایک  واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ بعض یہودیوں نے طعنہ دیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مؤذن ایسا رکھا ہے، جسے شین اور سین کی تمیز نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے سے منع کردیا تو اس روز صبح نہیں ہورہی تھی، پھر صحابی نے بارگاہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوکر رات کے حوالے سے عرض کیا، پھر جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا: جب تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان نہیں دیں گے، صبح نہیں ہو گی تو پھر حضرت بلال نے اذان دی تو صبح ہوئی۔

اور یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کا سین بھی اللہ تعالی کے نزدیک شین ہے۔

صورت ِ مسئولہ میں  مذکورہ واقعہ   مستند کتب احادیث  وسیر میں موجودنہیں ہے ،اور اس ضمن میں جو  حدیث بیان کی جاتی ہے وہ محدثین کے نزدیک من گھڑت اور بے اصل ہے ؛لہذا اس کو بیان کرنا درست نہیں ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دیگر فضائل کو  بیان کرنا چاہیے۔

البدایۃ والنہایۃ میں ہے :

"ومنهم رضي الله عنهم بلال بن رباح الحبشي. ولد بمكة وكان مولى لأمية بن خلف، فاشتراه أبو بكر منه بمال جزيل لأن كان أمية يعذبه عذابا شديدا ليرتد عن الإسلام فيأبى إلا الإسلام رضي الله عنه، فلما اشتراه أبو بكر أعتقه ابتغاء وجه الله، وهاجر حين هاجر الناس، وشهد بدرا وأحدا وما بعدهما من المشاهد رضي الله عنه. وكان يعرف ببلال بن حمامة وهي أمه، وكان من أفصح الناس لا كما يعتقده بعض الناس أن سينه كانت شينا، حتى إن بعض الناس يروي حديثا في ذلك لا أصل له عن رسول الله أنه قال: إن سين بلال شينا. وهو أحد المؤذنين الأربعة كما سيأتي، وهو أول من أذن كما قدمنا".

(ج:5،ص:333،دارالفکر)

المقاصد الحسنۃ للسخاوی میں ہے :

"حديث: سين بلال عند الله شين، قال ابن كثير: إنه ليس له أصل، ولا يصح، وكذا سلف عن المزي في: إن بلالا، من الهمزة، ولكن قد أورده الموفق ابن قدامة في المغني بقوله: روي أن بلالا كان يقول أسهد، يجعل الشين سينا، والمعتمد الأول، وقد ترجمه غير واحد بأنه كان ندي الصوت حسنه فصيحه، وقال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن زيد صاحب الرؤيا: ألق عليه، أي على بلال، الأذان، فإنه أندى صوتا منك، ولو كانت فيه لثغة لتوفرت الدواعي على نقلها، ولعابها أهل النفاق والضلال، المجتهدين في التنقص لأهل الإسلام، نسأل الله التوفيق".

(ص:397،دارالکتاب العربی)

التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ میں ہے :

"قال الحافظ جمال الدين المزي اشتهر على ألسنة العوام ان بلالا رضي الله عنه كان يبدل الشين في الآذان سينا ولم نره في شيء من الكتب كذا وجدته عنه بخط الشيخ برهان الدين السفاقسي".

(ص:208،دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں