بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں 'مشکل کشا' عقیدہ رکھنے کا حکم


سوال

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ مشکل کشا ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مشکل کشا اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں مشکل مسائل کو حل کرنے والا، یہ لفظ عربی زبان کے لفظ 'حل المعضلات'  کا فارسی میں ترجمہ ہے، حل المعضلات یعنی مشکل مسائل کا حل کرنے والا ، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب تھا؛ کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جب بھی کوئی مشکل اور پیچیدہ مقدمہ لایا جاتا تو حضرت علی  رضی اللہ عنہ اس کو نہایت آسانی سے حل فرما دیتے، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ لفظ  اسی معنی میں استعمال کرنا صحیح ہے،  البتہ بعد میں اسی لفظ 'مشکل کشا'  کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عقیدت ومحبت میں غلو کرنے والے لوگوں نے یہ سمجھ لیا یا اپنا عقیدہ بنالیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہرزمانہ میں مشکل کشائی فرماتے ہیں اور یہاں تک غلو میں بڑھے کہ جس طرح مصائب میں اللہ پاک کو پکارا جاتا ہے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکارنے لگے اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ تشبہ بالشرک بلکہ شرک ہی ہے؛ کیوں  کہ مشکل کشا، حاجت روا اور متصرف فی الامور ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لہذاکسی غیر خدا (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے متعلق   'مشکل کشا' کا عقیدہ رکھنا  یا اس کو 'مشکل کشا' مانناناجائز اور حرام ہے۔  

قرآنِ مجید میں ہے:

"وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ." (يونس، 107)

ترجمہ: "اور اگر تم کو اللہ تعالی کوئی تکلیف پہنچادے تو بجز اس کے اور کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی راحت پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر  چاہیں مبذول فرمادیں اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والے ہیں۔"

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني وليس ذلك من التوسل المباح في شيء... وقد عدّه أناس من العلماء شركا."

(‌‌ج: 3، ص: 298،297، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

"الإحكام في تمييز الفتاوى" میں ہے:

"قولُه صلى الله عليه وسلم: "أقضاكم عليّ.

وفي حاشيته: هذا ثناء عظيم، وتزكية كريمة من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لأفضلية معرفة علي رضي الله عنه بالقضاء وإقامة الحقوق والحدود في دين الله تعالى... وقد اشتهر أبو الحسن علي رضي الله عنه بالقضاء حتى صار يضرب به المثل في حل المعضلات وفك المغلقات، حتى قيل في كل مشكلة يستعصي حلها ويصعب كشف كنهها: "قضية ولا أبا حسن لها". يعنون أن علياً أبا الحسن رضي الله عنه وهو حلال المشكلات - قد يعجز عن حل تلك المشكلة التي عجزوا عنها لتوغلها في الصعوبة والإغلاق. ولهذا كان عمر رضي الله عنه وهو المحدث الملهم - يتعوذ من معضلة ليس لها أبو الحسن، وكان يقول؛ لولا علي لهلك عمر. ويقول: علي أقضانا."

(‌‌السؤال الرابع، ص: 47،46، ط: دار البشائر الإسلامية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100959

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں