بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار ثور کو کس چیز سے بند کیا تھا؟


سوال

 حضرتِ ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے غار ثور کو کس چیز سے بند کیا تھا؟

جواب

تاریخ  کی معروف کتاب تاریخِ دمشق میں مذکور ہے کہ ہجرت کے سفر میں  جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ  آپ ﷺ کے ہمراہ غارِ ثور پر پہنچے تو اول حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غار کا معائنہ کیا اور اس میں دراڑیں اور سوراخ پائے تو اپنے جسم پراوڑھی ہوئی چادر کے ٹکرے کر کے ان سوراخوں کو بند کیا یہاں تک کہ دو سوراخ رہ گئے جسے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں کے تلووں سے پوری رات بند رکھا۔

تاریخ دمشق لابن عساکر میں ہے:

"حتى أتى به فم الغار فأنزل ثم قال والذي بعثك بالحق لا تدخله حتى أدخله قبلك فإن يك فيه شئ نزل بي دونك قال فدخل أبو بكر فلم ير شيئا فقال له اجلس فإن في الغار خرقا أسده وكان عليه رداء فمزقه وجعل يسد به خرقا خرقا فبقي جحران فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم فحمله فأدخله الغار ثم ألقم قدميه الجحرين فجعل الأفاعي والحيات يضربنه ويلسعنه إلى الصباح وجعل هو يتقلا من شدة الألم ورسول الله صلى الله عليه وسلم لا يعلم بذلك ويقول له يا أبا بكر لا تحزن إن الله معنا."

(حرف العین،عبد الله ويقال عتيق بن عثمان بن قحافة،ج:30،ص:80،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں