بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

حضرت عبد اللہ بن جعفر کا اپنی بیٹی کو دعا سکھلانا


سوال

حضرت عبداللہ بن جعفر کی بیٹی کا نکاح حجاج بن یوسف کے ساتھ ہوا،  جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کو کوئی دعا سکھائی تاکہ حجاج ان کے قریب نہ آ سکے. اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے  کہ یہ شادی جبراً  کی گئی تھی اور عبداللہ بن جعفر مجبور تھے. تاریخی حقائق کیا ہیں؟

جواب

روایت میں یہ صراحت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما  نے اپنی صاحب زادی کو  نصیحت فرمائی تھی کہ جب حجاج تمہارے پاس آئے تو تم "لَا إِلَهَ إِلا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"   کہہ  لینا۔

باقی شادی مجبوری میں کی تھی یا نہیں، اس بات کی صراحت نہ مل سکی، البتہ مذکورہ دعا پڑھنے اور اس کے نتیجے سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اور ان کی صاحب زادی کی دلی رضامندی اس میں شامل نہیں تھی۔

مسند احمد میں ہے:

"عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَتَهُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَقَالَ لَهَا: إِذَا دَخَلَ بِكِ فَقُولِي: " لَا إِلَهَ إِلا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ، قَالَ هَذَا قَالَ حَمَّادٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: "فَلَمْ يَصِلِ الَيْهَا". (مسند أهل البيت رضوان الله عليهم أجمعين، حديث عبد الله بن جعفر بن ابي طالب رضي الله عنه، ٣ / ٢٨٦، ط: الرسالة)

تاریخ دمشق لابن عساکر میں ہے:

"عن ابن أبي رافع عن عبد الله بن جعفر أنه زوج ابنته من الحجاج بن يوسف فقال لها: إذا دخل بك فقولي: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين، وزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا حزبه أمر قال هذا. قال حماد: فظننت أنه قال: فلم يصل إليها.

أنبأنا أبو محمد بن الأكفاني أنبأنا أبو الحسين بن علي اللباد أنبأنا تمام بن محمد أخبرني أبي أخبرني أبو الميمون أحمد بن محمد القرشي أخبرني أبي نبأنا أبو الحكم حدثني محمد بن إدريس الشافعي قال: لما تزوج الحجاج بن يوسف ابنة عبد الله بن جعفر، قال خالد بن يزيد بن معاوية لعبد الملك بن مروان: أتركت الحجاج يتزوج ابنة عبد الله بن جعفر؟ قال: نعم وما بأس بذلك! قال: أشد البأس والله! قال: وكيف؟ قال: والله يا أمير المؤمنين لقد ذهب ما في صدري على آل الزبير منذ تزوجت رملة بنت الزبير! قال: فكأنّه كان نائمًا فأيقظه، قال: فكتب إليه يعزم عليه في طلاقها، فطلّقها، انتهى". ( ١٢١٧- الحجاج بن يوسف بن الحكم ابن أبي عقيل بن مسعود بن جابر بن معتب ابن مالك بن كعب بن عمرو، ١٢ / ١٢٥، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں