بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ کی کیفیت اور قالین یا دیگر نرم بچھونے پر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

  آج کل مساجد میں فرش پر ٹائلز لگا ئے جاتے ہیں جو کہ چٹان کی طرح سخت ہوتے ہیں ۔ مساجد میں قالین یا دریاں ہٹا کر سخت فرش پر نماز ادا کی جاتی ہے۔ جبکہ مساجد کے پاس اتنا فنڈ ہوتا ہے کہ فرش پر قالین بچھاسکتے ہیں۔ یہ عمل وہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سخت جگہ نماز پڑھنا سنت ہے۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چٹان کی طرح سخت جگہ نماز پڑھنا سنت ہے یا کچی زمین پر جس پر سوکھی گھانس ہو یا اسکی مقدار کے بقدر نرم جگہ نماز پڑھنا سنت ہے؟ یہ سوا ل اس لیے پوچھا ہے کہ اس سختی کی وجہ سے نمازیوں کےگھٹنے او ر ٹخنے پر زور پڑتا ہے جس سے اس پر زخم یا سوجن ہوجاتی ہے۔ تو کیا نمازیوں کو جان بوجھ کرتکلیف دینا جائز ہے ؟ 

جواب

واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عموماً نمازیں زمین پر  ہی پڑھیں ہیں، البتہ بعض مواقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےکھجور کی چھال والی دری پر، یاکسی بچھونے پر    نفلی نمازیں پڑھنا بھی ثابت ہے، اسی طرح  بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قالین یا کمبل پر نماز کو مکروہ سمجھتے تھے جب کہ بعض صحابہ اس کو بھی  جائز سمجھتے تھے، لیکن فقہائے احناف اور دیگر  اکثر فقہاء نے قالین وغیرہ پر بھی نماز پڑھنے کو درست فرمایا ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں،  لہذا قالین پر اور فرش پر نماز یں پڑھنا صحیح ہے،البتہ اگر فرش پر نماز پڑھنے سے  بعضے بوڑھے نمازیوں کے گھٹنے پر اثر پڑتا ہے تو  کمیٹی والوں کو چاہیے کہ نمازیوں کی سہولت اور آسانی کے لیےفنڈ کی موجودگی کی صورت میں دری، چٹائی یا قالین کا اہتمام کریں تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌يصلي ‌على ‌الخمرة. "

(ابواب الصلاة، باب ما جاء في الصلاة علي الخمرة، ج:1، ص:433، ط:دار الغرب الاسلامي)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي سعيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على حصير.

والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم.إلا أن قوما من أهل العلم اختاروا الصلاة على الأرض استحبابا."

(ابواب الصلاة، باب ما جاء في الصلاة علي الحصير، ج:1، ص:434، ط:دار الغرب الاسلامي)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي التياح الضبعي قال: سمعت أنس بن مالك يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخالطنا، حتى كان يقول لأخ لي صغير: يا أبا عمير ما فعل النغير، قال: ونضح بساط لنا فصلى عليه.

والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ومن بعدهم: لم يروا بالصلاة على البساط والطنفسة بأسا. وبه يقول أحمد، وإسحاق."

(ابواب الصلاة، باب ما جاء في الصلاة علي البسط، ج:1، ص:435، ط:دار الغرب الاسلامي)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا جرير، عن مغيرة، عن إبراهيم، عن الأسود، وأصحابه أنهم كانوا يكرهون أن يصلوا على الطنافس، والفراء، والمسوح ."

(کتاب الصلوٰات، في الصلاة علي المسوح، ج:1، ص:351، ط:مكتبة الرشد)

اختلاف العلماء للطحاوی میں ہے:

"قال أصحابنا والثوري والشافعي لا بأس به وكره مالك السجود على الطنافس وبسط الشعر والأدم وكان يقول لا بأس بأن يقوم عليها ويركع عليها ولا يسجد عليها ولا يضع كفيه عليها ولا يرى بأسا بالحصباء وما أشبهها مما تنبت الأرض."

(في الصلاة علي الطنافس، ج:1، ص:233، ط: دار البشائر الاسلاميه)

معارف السنن میں ہے:

"والفرائض والنوافل كلها تصح عليهما، وعلي كل بساط عند الثلاثة، وأما مالك فقد وسع في النوافل فأجازها عليها، وضيق في الفرائض، فلم يجزها إلا علي الارض أو ما كان من جنس الأرض..........

ويقول الزهاد: ان ما ثبت من صلاته علي الخمرة أو الحصير إنما هو في النوافل دون الفرائض قاله الشيخ: لعله يشير إلي ما ذكرنا هم في رواية ابن  أبي شيبة وإن كان غيرهم فلم اعرفهم."

(ابواب الصلاة، باب ماجاء في الصلاة علي الخمرة، ج:3، ص:345، 346، ط:مجلس الدعوة والتحقيق الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں