بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

حیاۃ النبی کے منکر کا حکم


سوال

اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو روضہ اقدس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلاۃ و سلام کو سننے کا انکار کرے اور روح کے جسم کے ساتھ تعلق کا بھی انکار کرے؟ 

جواب

اہل سنت و الجماعت علماء دیوبند  کے عقیدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور  روح کا تعلق جسم مبارک سے قائم ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی حیاۃ کے مثل بلکہ اس سے بھی اعلی او ر قوی حیاۃ   کے ساتھ اپنی قبر مبارک میں آرام فرماہیں اور جو شخص روضہ اقدس پر  درود و سلام   پیش کرتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں ۔جو شخص اس عقیدہ کا انکار کرے وہ اہل سنت و الجماعت علماء دیوبند سے خارج ہے،ہمارے عرف میں ایسے شخص کو’’ مماتی ‘‘کہا جاتا ہے  اور اگر ایسا شخص  کسی مسجد کا امام ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔

"القول البدیع في الصلاة علی الحبیب الشفیع"  میں ہے:

"نحن نؤمن و نصدق بأنه صلي الله عليه وسلم حي يرزق في قبره، و أن جسده الشريف لاتأكله الأرض، و الإجماع علی هذا".

(الباب الرابع: رسول الله حي علي الدوام، ص: ١٦٧،ط: مطبعة الإنصاف)

الحاوی للفتاوی میں ہے:

"حياة النبي صلي الله عليه وسلم في قبره هو و سائر الأنبياء معلومة عندنا علماً قطعياً لما قام عندنا من الأدلة في ذلك، و تواترت به الأخبار الدالة علی ذلك".

( إنباء الأذكياء بحياة الأنبياء، ص: ٥٥٤، ط: رشيدية)

جواہر الفتاوی میں ہے:

"حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا عقیدہ نصوصِ شرعیہ سے اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، باتفاق علماءِ اہل السنۃ والجماعۃ خاص کر اکابرینِ علماءِ دیوبند، اس جماعتِ دیوبندیہ کے لیے معیار قرار دیتے ہیں، اس کے خلاف منکرینِ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم و الانبیاء والشہداء کو مبتدع اور اہلِ سنت و الجماعت سے خارج قرار دیتے ہیں"۔

  (جواہر الفتاوی جدید ،  ١/ ٤٣٢، ط: اسلامی کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں