بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حیا نام رکھنا


سوال

بیٹی کا نام حیا رکھنا کیسا ہے ؟تاریخ پیدائش 13 دسمبر2022ء   ۔

جواب

واضح رہے کہ  تاریخ پیدائش کے  اعتبار سے نام  رکھنے کا تصور  درست  نہیں  ہے،  نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو، مثلًا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا وہ اچھا بامعنی لفظ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں  ’’حیا‘‘ کا معنی  ہے :شرم ،وقاروسنجیدگی،معنی کے اعتبار سے یہ نام اچھا ہے  ،البتہ بعض مرتبہ یہ بدفالی کا سبب بن سکتا ہے، مثال کے طورپراگر کسی شخص نےحیا نام رکھااورکسی وقت گھر والوں سے پوچھا کہ یہاں حیا ہے ؟ گھروالوں نے جواب دیا کہ گھر میں حیا  نہیں ہے تو اگر چہ اس صورت میں متعین ذات مراد ہوگی مگر لفظ حیا   کے حقیقی  معنی کے اعتبارسے مفہوم  یہ ہوگاکہ گھر میں شرم وحیا   نہیں  ہے اوراس طرح کہنا برائی کی بات ہےلہذا بہتریہ ہے  کہ حیا  نام کی جگہ  صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے ۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا منصور بن المعتمر، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن عميلة، عن سمرة بن جندب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لاتسمينّ غلامك يسارًا، و لا رباحًا، و لا نجيحًا، ولا أفلح»، فإنك تقول: أثم هو؟ فيقول: «لا،  إنما هن أربع فلاتزيدن علي."

)سنن أبي داود، باب في تغيير الاسم القبيح، 4 /290، ط: المكتبة العصرية)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود."

(کتاب الآداب ، باب الأسامي جلد ۳ ص:۱۳۴۷ ط: المکتب الاسلامي ، بیروت)

مفہوم:"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔"

فتاوی شامی میں ہے :

"ولا يسمى الغلام يسارا ولا رباحا ولا نجاحا ولا بأفلح ولا بركة فليس من المرضي أن يقول الإنسان عندك بركة فتقول لا، وكذا سائر الأسماء."

 (كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،6/ 418ط؛سعید)

’’القاموس الوحید ‘‘ میں ہے:

"الحیاء :شرم وحیا ،وقار  و سنجیدگی۔(ص:401 ،ط:ادارہ اسلامیات)"

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144405101562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں