بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شئیر مارکیٹ میں کام کرنے کی جائز صورتیں اور اس سے کمائے ہوئے حرام پیسوں کا حکم


سوال

(1)  شئیر مارکیٹ میں کون سے طریقہ پر پیسے کمانا حلال ہے؟ 

(2) اگر شئیر مارکیٹ سے کمائے گئے حرام پیسوں سے جان بوجھ کر کاروبار کیا ، تو اس سے کمائے ہوئے پیسوں کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے شیئرز کے خرید وفروخت کے جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:

1- جس کمپنی یا ادارہ کے حصص (شیئرز) کی خرید وفروخت کی جارہی ہو  وہ کمپنی یا ادارہ حقیقت میں موجود ہو۔

یعنی  اس کمپنی یا ادارہ کے ماتحت کوئی جائیداد، کارخانہ، مل، فیکٹری یا کوئی اور چلتا ہوا کاروبار  موجود ہو، اور اگر کمپنی یا ادارہ کے تحت  مذکورہ اشیاء نہ ہوں یا  کمپنی  یا ادارہ سرے سے موجود ہی نہ ہو ، صرف اس کا نام ہو  اور اس کے شیئرز بازار میں  اس لئے چھوڑے گئے  ہوں کہ اس پر پہلے سے زیادہ  رقم حاصل کی جائے اور منافع حاصل کئے جائیں تو ایسی کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز نہیں،   کیوں کہ ہر شیئر کے مقابل  میں صرف جمع شدہ رقم کی رسید ہے،  کوئی جائیداد یا ایسا مال نہیں  جس پر منافع لے کر فروخت کیا جاسکے۔

2- کمپنی کا سرمایہ جائز اور حلال ہو۔

*یعنی جس موجود کمپنی اور چالو  کاروبار  یا کارخانہ کے حصص (شیئرز) خریدوفروخت کئے جارہے ہوں اس کا سرمایہ جائز  اور حلال ہو، رشوت،چوری،غصب، خیانت،سود، جوئےاور سٹہ پر حاصل  شدہ رقم نہ ہو ، لہذا سودی ادارے جیسے بینک یا انشورنس کمپنی وغیرہ کے شیئرز کی خرید وفرخت جائز نہیں ہے۔

*کمپنی  کے شرکاء میں سودی  کاروبار کرنے  والے یا کسی اور ناجائز اور حرام  کاروبار کرنے والے اداروں یا  افراد کی رقم  شامل نہ ہو۔

3- کمپنی یا ادارہ کا کاروبار جائز اور حلال ہو ۔

*یعنی کمپنی یا ادارہ   کے کاروبار کے طریقہ کے درست  ہونے کے ساتھ  ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ  کمپنی یا ادارہ کا کاروبار  بھی جائز ہو، مثلا شرعی شراکت  اور شرعی مضاربت کی بنیاد پر  کاروبار ہو  ، اگر کاروبار ناجائز ہو گا تو اس کمپنی کے شیئرز  کی  خرید وفروخت  جائز  نہیں ہوگی۔

*اور کمپنی کا کاوربار حلال اور جائز اشیاء کا ہو ، لہذا شراب، جاندار کی تصاویر ، ٹی وی، وی سی آر  اور  ویڈیو فلم  سینما وغیرہ اور اسی طرح دیگر حرام اور ناجائز اشیاء کے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز کی خرید وفرخت  ناجائز ہوگی اور ایک شرط یہ ہے کہ اس حلال کاروبار پر مشتمل کمپنی نے کسی بینک وغیرہ سے سودپر قرض نہ لیا ہواور اگر یہ معلوم ہوا کہ اس کمپنی نے سود پر قرض لیا ہے تو ایسی کمپنی کے شیئرزخریدنا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ ایسی صورت میں شیئرزخریدنے والا بھی سود دینے والا شمار ہوگا۔

4- شیئرز کی خرید وفرخت میں شرائط بیع کی پابندی کرنا۔

یعنی مذکورہ کمپنی یا ادارہ  کے شیئرز  کی خریدوفروخت بیع وتجارت  کے شرعی اصولوں کے مطابق ہو  مثلا  آدمی  جن  شیئرز کو خرید کر بیچنا چاہتا ہے  اس پر شرعی طریقہ سے قابض ہو  اور دوسروں کو تسلیم اور حوالہ کرنے پر بھی قادر ہو۔

واضح رہے کہ  شیئرز میں قبضہ کا حکم ثابت ہونے کے لیے  صرف زبانی وعدہ کافی نہیں ہے،موجودہ دور میں سی ڈی سی اکاؤنٹ میں شیئرز کا منتقل ہوجاناضروری ہے،  اس سے پہلے  صرف زبانی وعدہ پریا موبائل پر صرف میسج آنے پرغیر رجسٹرڈ  شیئرز  کی خرید وفروخت ناجائز ہے،  البتہ یہ  درست ہے  کہ شیئرز پہلے بائع  کے نام رجسٹرڈ ہوں اور سی ڈی سی میں نام آجائےتو   اس کے بعد اس کو آگے نفع کے ساتھ  خریدوفروخت  کرنا جائز ہوگا، یا  شیئرز وصول  کرلیے  ہیں لیکن   ابھی تک قیمت ادا نہیں کی  تو اس صورت میں بھی مذکورہ شیئرز کو فروخت کرکے نفع لینا جائز ہے، کیوں کہ مبیع پر قبضہ ثابت ہے۔

5- منافع کی کل رقم کو تمام حصہ داروں  کے درمیان  شیئرز کے مطابق تقسیم کرنا۔  

یعنی کمپنی میں جو منافع ہوا ہے اسے تمام حصہ داروں میں  ان کے شیئرز کے مطابق تقسیم کردیا  جائے، لیکن اگر کوئی کمپنی مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے  منافع میں سے مثلا  ٪20 فیصد  اپنے لئے مخصوص کرتی ہے اور  80 فیصد  منافع کو حصہ داروں (شیئر ہولڈرز) میں تقسیم  کرتی ہے تو اس کمپنی کے شیئرز کی خریدوفروخت ناجائز  اور حرام ہے  کیوں کہ یہ کمپنی شرعی شراکت کے  خلاف  ناجا ئز کاروبار کرتی ہے۔

(ماخوذ از  جواہر الفتاوی،  م؛ مفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب: 3/ 258،ط؛ اسلامی کتب خانہ)

 مذکورہ تفصیل کی رو  سے صورتِ مسئولہ میں سائل  کے لیے شیئرز کو فروخت کرنااوپر بیان کردہ دیگر شرائط کے پائی جانے کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ سائل کے خریدے گئے شیئرز  اس کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی (C.D.C) کے ذریعے ان حصص کی منتقلی سائل (خریدار) کے نام ہوجائے، لہذا سی ڈی سی اکاؤنٹ میں سائل کے نام   پر شئیرز منتقل ہونے سے پہلے شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا۔

(2) اگر شئیرمارکیٹ سے کمائے گئے  حرام پیسوں سے کام کیا ہے،تواس کے لیے حکم یہ  ہے کہ پہلے یہ کوشش کر لی جائے  کہ جہاں سے یہ سودی رقم لی ہے  اسی کو واپس کردے، لیکن اگر باوجود کوشش کے اسی شخص یا ادارے کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر کسی ضرورت مند مستحقِ زکاۃ غریب شخص کو یہ رقم صاحب حق کی طرف سے بطور صدقہ کے دےدے۔

حدیثِ مبارکہ میں ہے:

"حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: الذي حفظناه من عمرو بن دينار، سمع طاوسًا، يقول: سمعت ابن عباس رضي الله عنهما، يقول: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم «فهو الطعام أن يباع حتى يقبض»، قال ابن عباس: ولاأحسب كلّ شيءٍ إلا مثله."

(كتاب البيوع، باب بيع الطعام قبل أن يقبض وبيع ماليس عندك، ج:2، ص:751، ط:دار ابن كثير، دار اليمامة دمشق)

البحر الرائق میں ہے:

"‌قبض ‌كل ‌شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به."

(كتاب الوقف، فصل إختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج:5، ص:268، ط:دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض»، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر."

(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:180، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

 فتاوی شامی میں ہے:

"وشرط المعقود عليه ستة:  كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم... ولابیع معجوز التسلیم."

(کتاب البیوع، مطلب: شرائط البیع أنواع أربعة: 4/ 505،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، مطلب رد المشتري فاسدا الى بائعه فلم يقبله، ج:5، ص:99، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144402101456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں