بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حرمین فاطمہ نام رکھنا


سوال

حرمین فاطمہ نام کیسا ہے؟ مطلب بتا دیں؟ کیا بیٹی کا نام رکھ سکتا ہوں؟

جواب

حرمین حرم کی تثنیہ ہے، جس کا اطلاق عرف عام میں حرم مکی یعنی بیت اللہ الحرام اور حرم مدنی یعنی مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوة  والسلام پر ہوتا ہے۔

حرم کے معنی مقدس جگہ، محترم چیز یا شخصیت،  بیوی وغیرہ کے آتے ہیں،  پس حرمین فاطمہ نام اگرچہ رکھ سکتے ہیں،  تاہم حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  کی نسبت سے صرف  فاطمہ نام رکھنا بہتر ہوگا۔

المحيط البرهانی  میں ہے:

" روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «سموا أولادكم أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله تعالى؛ عبد الله، وعبد الرحمن» قال الفقيه أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن عبد الرحيم؛ لأن العجم لا يعرفون تفسيره، فيسمونه بالتصغير، وروي عن النبي عليه السلام: أنه نهى أن يسمى المملوك نافعا أو بركة، أو ما أشبه ذلك، قال الراوي:؛ لأنه لم يحب أن يقال: ليس ههنا بركة، ليس ههنا نافع إذا طلبه إنسان، وفي الأثر: «لا يقول الرجل عبدي وأمتي، بل يقول: فتاي وفتاتي» .

وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل."

( كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم، ٥ / ٣٨٢، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں