بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حربی کو قربانی کا گوشت دینے کا حکم


سوال

143909202034 فتوی نمبر آپ نے غیرمسلم کو قربانی کے گوشت کا جواز لکھا ہے اور جزئیہ ذمی کا دیا ہے۔ لیکن اب تو ذمی کا وجود نہیں ہے، صرف حربی کافر ہیں، ان کا کیا حکم ہے ؟ اگر آپ حربی کو دینے کے قائل ہیں یا ذمی کا وجود مانتے ہیں تو دلائل سے اس کو واضح کریں۔

جواب

قربانی کا گوشت غیر مسلم (ذمی) کو دیا جا سکتا ہے، نہ کہ حربی کو، حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔

باقی ذمی سے مراد وہ غیر مسلم افراد ہیں جوکسی اسلامی ملک میں اس ملک کے قوانین کی پاسداری کاعہد کرکے وہاں سکونت اختیار کریں۔یہ افراد ''ذمی''کہلاتے ہیں، جن افراد پر یہ تعریف صادق آتی ہے ان کو ذمی کہا جائے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الحربي ولو مستأمنا فجميع الصدقات لا تجوز له اتفاقا."

(کتاب الزکوۃ، باب مصرف الزکوۃ، جلد:2، صفحہ: 352، طبع: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"وقيد بالذمي؛ لأن جميع الصدقات فرضا كانت أو واجبة أوتطوعا لا تجوز للحربي اتفاقا كما في غاية البيان."

(كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة، جلد:2، صفحه: 261، طبع: دار الكتاب الاسلامي)

موسوعة القواعد الفقهية میں ہے:

"‌الذمي: ‌هو ‌الذي أعطي عهداً أن يكون في ذمة المسلمين ورضي بدفع الجزية والبقاء على دينه تحت حكم الإسلام. ويشمل ذلك: الكتابي: اليهودي والنصراني، وغير الكتابي كالمجوسي والوثني.فهؤلاء يجري عليهم من الأحكام ما يجري على المسلمين إلا ما استثني بسبب اختلاف الدين."

(‌‌ثالثاً: من أمثلة هذه القاعدة ومسائلها، جلد:2، صفحہ: 210، طبع : مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں