بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حضرت اسحاق علیہ السلام کے والد کا اسم گرامی


سوال

حضرت اسحاق علیہ السلام کے والد کا اسم گرامی کیاتھا؟

جواب

حضرت اسحاق علیہ السلام  حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے، جس کی بشارت کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے، جیسے کہ سورۂ صافات میں ہے:

"سلام ہو ابراہیم پر! ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں، یقیناً وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے۔ اور ہم نے انہیں اسحاق کی خوش خبری دی کہ وہ صالحین میں سے ایک نبی ہوں گے"۔

(ترجمہ:ازبیان القرآن، سورۃ:الصافات، رقم الآیۃ:109/110/111/112)

اور حدیث شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: 

’’کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم: یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہے۔‘‘

تفسير القرآن العظیم(ابن كثير) میں ہے:

"يذكر تَعَالَى أَنَّهُ وَهَبَ لِإِبْرَاهِيمَ إِسْحَاقَ بَعْدَ أَنْ طَعَنَ فِي السِّنِّ، وَأَيِسَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ سَارَةُ مِنَ الْوَلَدِ، فَجَاءَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ ذَاهِبُونَ إِلَى قَوْمِ لُوطٍ، فَبَشَّرُوهُمَا بِإِسْحَاقَ فَتَعَجَّبَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ ذلك، وقالت: {يَا وَيْلَتى أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهذا بَعْلِي شَيْخاً إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ} [هود: 72- 73] فبشروهما مَعَ وُجُودِهِ بِنُبُوَّتِهِ، وَبِأَنَّ لَهُ نَسْلًا وَعَقِبًا، كما قال تعالى: {وَبَشَّرْناهُ بِإِسْحاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ} [الصَّافَّاتِ: 112] وَهَذَا أَكْمَلُ فِي الْبِشَارَةِ وَأَعْظَمُ فِي النِّعْمَةِ."

(سورة الأنعام، رقم الآية:84، ج:3، ص:266، ط:دارالكتب العلمية)

صحیح البخاری میں ہے:

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الكَرِيمُ، ابْنُ الكَرِيمِ، ابْنِ الكَرِيمِ، ابْنِ الكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ»."

(بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ}، ج:4، ص:151، ط:دارطوق النجاة)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144204200092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں