بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حرمین میں عورت نماز کہاں پڑھے؟


سوال

عورت حرمین شریفین میں جمعہ پڑھنے  جائے یا نہیں؟اگر جائے تو کیا کرے؟

جواب

عورتوں کے لیے  اپنے گھر (قیام گاہ) ہی میں نماز پڑھنا بہتر ہے، چاہے وہ محلہ کی مسجد ہو یا حرم شریف ،حدیث میں آتا ہے:حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرہ کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرہ کی نماز گھر کے احاطہ کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطہ کی نماز محلہ کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلہ کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے،چناں چہ حضرت امّ حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے فرمائش کرکے اپنے کمرے (کوٹھے) کے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا رہتا تھا مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ) بنوائی، وہیں نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا اور اپنے خدا کے حضور حاضر ہوئیں۔"

لہٰذا عورتوں کے لیے حکم یہی ہے کہ خاص نماز کے ارادے سے مسجد نہ جائیں چاہے حرم شریف ہی ہو،لہذا مذکورہ صورت میں  حرمین میں عورت کے لیے جمعہ کے د ن نماز  ادا کرنا اپنی قیام گاہ ہی میں افضل ہے،البتہ اگر عورت حرم میں طواف  کے لیے گئی ہو اور نماز کا وقت ہوجائے تو جو عورتوں کے لیے نماز کی جگہیں بنائی گئی ہیں وہیں نماز ادا کرے،مرد کے برابر میں کھڑے ہونے سے مرد کی نماز نہیں ہوگی۔

"الترغیب والترھیب"میں ہے:

"عن أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي رضي الله عنهما أنها جاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إني أحب الصلاة معك قال قد علمت أنك تحبين الصلاة معي وصلاتك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك وصلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك وصلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجديقال فأمرت فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه وكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عز وجلرواه أحمد وابن خزيمة وابن حبان في صحيحيهما."

(كتاب الصلاة، ترغيب النساء في الصلاة في بيوتهن، ج:1، ص:140، ط:دار الكتب العلمیة)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے اپنے گھر(قیام گاہ)ہی میں نماز پڑھنا بہتر ہے چاہے وہ محلہ کی مسجد ہو یا حرم شریف کی(مذکورہ حدیث تو خاص مسجد نبوی  سے متعلق ہےاور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے سے متعلق درخواست تھی)لہذاعورتوں کے لیے بہتر یہی کہ خاص نماز کے ارادے سے مسجد نہ جائیں چاہے حرم شریف ہو،البتہ اگر عورت طوا ف کے ارادہ سےیا روضئہ پاک  پر صلاۃ وسلام پیش کرنے کے لئے حرم شریف میں حاضر ہوئی ہو  اور نماز کی تیاری ہونے لگے تووہاں عورتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے،مردوں کے ساتھ ہزگز کھڑی نہ ہو."

(باب الامامۃ والجماعۃ، ج:4، ص:148، ط:دار الاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:عورتیں نمازوں کے لیے حرم شریف میں جاویں یا اپنی قیام گاہ پر پڑھیں،افضل کیا ہے؟سمجھ میں یہ آتا ہے کہ صبح اور عشاء کی نماز حرم میں پڑھیں،کیونکہ اندھیرے کی وجہ سے پردہ بھی ہے اور حرم میں آنے جانے میں سہولت بھی ہے،اول وقت چلی جائیں اور آخر میں باہر آئیں۔

جواب:ان کو مکان پر نمازپڑھنا بہتر ہےہرنماز کا یہی حکم ہے۔"

(باب فی احکام الحج، ج:22، ص:419، ط:ادارۃ الفاروق)

"احسن الفتاوی"میں ہے:

"مکہ مکرمہ میں عورت کو  گھر میں نماز پڑھنے کا وہی اجر ملے گا جو مردوں کے لیے مسجد حرام میں نماز پر ہے،نیز مذکورہ ہے مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے پر جہنم عذاب نفاق سے بشارت صرف مردوں کے لیے نمازِ جماعت کے ساتھ مخصوص ہے،عورتوں کے لیے مسجد نبوی کی بجائے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔"

(احسن الفتاوی، ج:3، ص:34، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404101887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں