بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حرام رقم سے مرحوم کے قرض کی ادائیگی کرنا


سوال

 اگر کوئی شخص  دنیا میں نہ ہو اور پھر یہ پتہ چلے کہ اس نے زندگی میں بہت معاملات میں ہیرا پھیری کی ہے، یہ بات ثابت ہوتی ہے، تو کیا اس معاملے میں کسی کا معاملہ نمٹانے کے لیے کوئی شخص اپنے پراویڈینٹ فنڈ کے مارک اپ کو اس مد میں بغیر کسی ثواب کی نیت سے تاکہ مرحوم کا کچھ بوجھ ہلکا ہوجاۓ؟

جواب

واضح رہے کہ پراویڈنٹ فنڈ میں شمولیت اگر جبری ہو، اور ملازم کی رضامندی کے بغیر اس کی تنخواہ سے کچھ فیصد کٹوتی کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں تنخواہ میں سے کاٹی  گئی رقم  اور اس پر ملنے والا اضافہ دونوں لینا ملازم کے لیے جائز ہوتا ہے، البتہ اختیاری کٹوتی کی صورت میں ملازم کے لیے اصل رقم سے زائد رقم وصول  کرنا سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوتا، لہذا اختیاری کٹوتی کی صورت میں  اگر کسی نے اصل رقم سے زائد رقم وصول کرلی ہو تو اسے  ثواب کی نیت کے بغیر کسی ضرورت مند زندہ انسان کو دینا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جبری کٹوتی کی صورت میں پروویڈنٹ فنڈ کے نام پر ملنے والی کل رقم  وصول کرنا  مذکورہ شخص  کے لیے جائز ہوگا، اور وہ اپنی مرضی سے مذکورہ مرحوم شخص کے دین داروں کو ادائیگی کر سکتا ہے، البتہ اختیاری کٹوتی کی صورت میں مذکورہ شخص کے لیے اصل رقم سے زائد  سودی رقم  وصول کرنا جائز نہ ہوگا، اور وصول کرلینے کی صورت میں  مذکورہ رقم سے مرحوم کے دینداروں کو ادائیگی کرنے کی شرعا اجازت نہ ہوگی، البتہ ادائیگی کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مذکورہ رقم کسی ضرورت مند کو مالک بنا کر دے دی جائے، اس کے بعد اسے مرحوم کے دین داروں کو ادائیگی کی ترغیب دی جائے، اسے مجبور نہ کیا جائے، پس اگر وہ اپنی مرضی سے دین داروں کو ادائیگی کر دے، تو اس کی اجازت ہوگی۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه."

(باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ٥/ ٥٥،ط: دار الفکر)

المحيط البرهاني في الفقه النعمانيمیں ہے:

"ولا يصرف في بناء مسجد وقنطرة، ولا يقضي بها دين ميت، ولا يعتق عبدا، ولا يكفن ميتا، والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القرب."

( كتاب الزكاة، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه، ٢ / ٢٨٢ - ٢٨٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144406102096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں