بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

حرام مغز کھانے کا حکم


سوال

جانور کی ریڑھ کی ہڈی میں جو حرام مغز ہوتا ہے اس کے کھانے کے بارے میں لوگ مختلف آراء رکھتے ہیں، شرعی اعتبار سے اس کے بارےمیں کیا حکم ہے؟ اس کا کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب

حرام مغز  کا کھانا حرام نہیں ہے۔

"کره تحریماً، و قیل: تنزیهاً والأول أو جه، من الشاة سبع: الحیاء والخصیة والغدة و المثانة والمرارة"... الخ

( الدرالمختار مع الرد ۶/۷۴۹)

"والنخاع: عرق أبيض في عظم الرقبة".

(المبسوط للسرخسي (11/ 226)

"و زِيْدَ نخاعُ الصلب".

(طحطاوی علی الدر( 4/360) 

کفایت المفتی میں ہے:

’’کپورے کھانا مکروہ ہے، گردے جائز ہیں، حرام مغز نہ حرام ہے نہ مکروہ، یوں ہی بے چارہ بدنام ہوگیا‘‘۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں