بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے بیٹے کی کمائی سے باپ کا قربانی میں حصہ لینے کا حکم


سوال

زید کے والد کا سود کا کاروبار ہے اور اسی سود کی رقم سے والد نے زید کو سعودی عرب میں کام کرنے کے لیے بھیجا ہے، جو بھی پیسے وہاں جانے میں خرچ ہوا ہے سب سود کے پیسوں کا تھا، اب عید الاضحی آرہی ہے تو زید کے والد ہمارے ساتھ حصہ لینا چاہتے ہیں، ہم نے انہیں منع کر دیا ہے یہ کہہ کر کہ آپ سود کا کام کرتے ہیں، تو زید کے والد نے جواب میں کہا ہے کہ: میں اپنے بیٹے کی کمائی ہوئی رقم سے حصہ لینا چاہتا ہوں نہ کہ اپنی کمائی سے، سوال یہ ہے کہ  زید کے والد کا اس کمائی سے حصہ لینا کیسا ہے کہ جس کمائی ہوئی رقم کی بنیاد سود پر رکھی ہوئی ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زید کے والد نے صرف زید کے ویزے اور ٹکٹ وغیرہ کے پیسے سودی رقم سے دیے ہیں اور زید وہاں پر ملازمت کرتا ہے، تو زید کے لیے حرام کمائی سے سعودی عرب کا ویزہ اور ٹکٹ وغیرہ لینا جائز نہیں تھا،البتہ اس سے زید کی کمائی حلال ہونے پر فرق نہیں پڑے گا، اب اگر زید کے والد زید ہی کی کمائی ہوئی رقم سے قربانی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو  ان کا قربانی میں حصہ لینا درست ہے، ہاں  اگر زید کے والد اپنی کمائی ہوئی سودی رقم سے ہی اس میں حصہ لے رہے ہیں، تو اس صورت میں ان کا قربانی میں حصہ لینا درست نہ ہوگا۔

الدر المختار میں ہے:

"اكتسب حراما واشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئا. قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا وهذا قياس وقال أبو بكر كلاهما سواء ولا يطيب له وكذا لو اشترى ولم يقل بهذه الدراهم وأعطى من الدراهم."

وفي الرد تحته:

"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:235، ط:سعيد)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"والسبيل ‌في ‌الكسب ‌الخبيث التصدق."

(كتاب البيوع، ج:12، ص:172، ط:دار المعرفة)

صحيح مسلم ميں ہے:

"وحدثني أبو كريب محمد بن العلاء، حدثنا أبو أسامة، حدثنا فضيل بن مرزوق، حدثني عدي بن ثابت، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: \" أيها الناس، إن الله ‌طيب ‌لا ‌يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا، إني بما تعملون عليم} [المؤمنون: 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟" 

(کتاب الزکوٰۃ،باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها،  ج:2، ص:702، ط: دار إحىاء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311100987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں