بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عرب ملک میں عید کی نماز اپنی الگ سے حنفی امام کے پیچھے پڑھے یا حنبلی امام کے پیچھے پڑھ لے


سوال

یہاں عرب ممالک  میں  عید  کی نماز  ( تکبیرات  زائد) کا طریقہ  احناف  سے  مختلف ہے ،ہم محض اللہ کے فضل سے یہاں رہتے ہوئے بھی سارے احناف کے مسائل  کے متبع  ہیں ،اس لیے عید کی نماز ایک کھلے میدان میں ( جو کہ یہاں کے اوقاف کی وجہ سے بہت مشکل سے حاصل ہوتاہے ) پاکستان  کے دار العلوم سے فارغ  ایک عالم کی اتباع میں  حنفی مسلک کے مطابق  ادا کرتے ہیں ،جس میں تقریبا 50 سے زائد نمازی ہوتے ہیں ،کیا ہمارا یہ عمل صحیح ہے ؟یہاں بہت سے ساتھی اعتراض کرتے ہیں  کہ جب یہاں مسجد میں عید کے بارے میں اجتماعات ہوتے ہیں  ،تو یہاں کےمطابق  عمل کرنا چاہیے،اگر کبھی یہاں ممکن نہ ہو تو کیا  ہم پھر یہاں کے مطابق نماز پڑھیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  حنفی مذہب کا امام اگر میسر ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا صحیح تو ہے، لیکن عید کی نماز بڑےاجتماع میں پڑھنا مسنون ہے، اس لیے حنبلی مذہب کا امام اگر فرائض اور واجبات میں حنفیہ کے مذہب کی رعایت رکھتا ہے، تو اس کی اقتدا میں ہی عید کی  نماز پڑھ لیا کر ے،  اپنی الگ سے جماعت کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور حنبلی مذہب کا امام اگر عیدکی نماز میں  تین سے زائد تکبیرات کہتا ہے تو مقتدی بھی اس کی اتباع میں وہ زائد تکبیرات  ادا کرے گا، اس سے مقتدی کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والاقتداء بشافعي المذهب إنما يصح إذا كان الإمام يتحامى مواضع الخلاف بأن يتوضأ من الخارج النجس من غير السبيلين كالفصد وأن لا ينحرف عن القبلة انحرافا فاحشا."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره، ج:1، ص: 84، ط: رشيدية)

وفيه أيضا:

"قال محمد - رحمه الله تعالى - في الجامع إذا دخل الرجل مع الإمام في صلاة العيد وهذا الرجل يرى تكبيرات ابن مسعود - رضي الله تعالى عنهما - فكبر الإمام غير ذلك اتبع الإمام إلا إذا كبر الإمام تكبيرا لم يكبره أحد من الفقهاء فحينئذ لا يتابعه، كذا في المحيط."

(كتاب الصلاة، الباب السابع عشر في صلاة العيدين، ج: 1، ص: 151، ط: رشيدية)

ردالمحتار میں ہے:

"وظاهر كلام شرح المنية أيضا حيث قال: وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع، إنما اختلف في الكراهة. اهـ فقيد بالمفسد دون غيره كما ترى. وفي رسالة [الاهتداء في الاقتداء] لمنلا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا إلى الجواز إذا كان يحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا. والمعنى أنه يجوز في المراعي بلا كراهة وفي غيره معها. ثم المواضع المهملة للمراعاة أن يتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلك، لا فيما هو سنة عنده مكروه عندنا؛ كرفع اليدين في الانتقالات، وجهر البسملة وإخفائها، فهذا وأمثاله لا يمكن فيه الخروج عن عهدة الخلاف، فكلهم يتبع مذهبه ولا يمنع مشربه اهـ."

(شامي، ‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الإمامة، مطلب في الاقتداء بشافعي ونحوه هل يكره أم لا، ج: 1، ص: 563، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410100595

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں