بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حنفی امام کا شافعی مسلک کے مطابق نماز پڑھانا


سوال

 ایک حنفی عالم امامت کررہا ہے اور تمام مقتدی شافعی ہیں، تو اس کے لیے بسم اللہ آواز سے پڑھنے  اور سورہ فاتحہ کے بعد رکنے اور فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کی اجازت ہے کیا تمام مسائل کو واضح طور سے سمجھا جائے۔کیا ایسا کرنے سے نماز ہوگی یا نہیں امام کی بھی؟

جواب

 احناف کے نزدیک  حوادث وآفات کے علاوہ عام حالات میں قنوتِ فجر مشروع نہیں ہے اور سورہ فاتحہ سے پہلے بلند آواز سے بسم اللہ پڑھناخلاف سنت ہے،لہذاحنفی مسلک کے امام کو شافعی مسلک کے مقتدیوں  کی امامت کرتے وقت حنفی طریقہ کے مطابق ہی نماز پڑھانی چاہیے۔ فقہاء رحمہم اللہ  نے شافعی امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے حنفی  مقتدی کو بھی امام کی متابعت واجب ہونے کے باوجود قنوتِ فجر پڑھنے کی اجازت نہیں دی ہے، بلکہ شافعی امام کے فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے کی صورت میں ہاتھ چھوڑ کر خاموش کھڑا رہنے کا کہا ہے، تو پھر حنفی امام کو شافعی المسلک مقتدیوں کی رعایت میں فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے!

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ويأتي المأموم بقنوت الوتر) ولو بشافعي يقنت بعد الركوع لأنه مجتهد فيه (لا الفجر) لأنه منسوخ (بل يقف ساكتا على الأظهر) مرسلا يديه

(قوله لأنه مجتهد فيه) قدمنا معنى هذا عند قوله في آخر واجبات الصلاة ومتابعة الإمام، يعني في المجتهد فيه لا في المقطوع بنسخه أو بعدم سنيته كقنوت فجر. اهـ. وقدمنا هناك من أمثلة المجتهد فيه سجدتا السهو قبل السلام، وما زاد على الثلاث في تكبيرات العيد وقنوت الوتر بعد الركوع. والظاهر أن المراد من وجوب المتابعة في قنوت الوتر بعد الركوع المتابعة في القيام فيه لا في الدعاء إن قلنا إنه سنة للمقتدي لا واجب (قوله لأنه منسوخ) فصار كما لو كبر خمسا في الجنازة حيث لا يتابعه في الخامسة بحر."

(کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج2،ص9،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101523

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں