بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حنفی عصرکی نمازشافعی مسلک کےمطابق اول وقت میں پڑھ سکتےہیں یانہیں؟


سوال

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم سعودی عرب میں رہ رہے ہیں، یہاں عصر کی نماز شافعی کے مطابق پڑھی جاتی ہے اور عصر حنفی ابھی شروع نہیں ہوتی تو ہم ان کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ ہرنماز کواس کےمقررہ وقت میں اداکرنالازم ہے،ہروہ نمازجووقت داخل ہونےسےپہلےپڑھی جائےوہ ادانہیں ہوتی،بلکہ اس نمازکواپنےوقت کےاندردوبارہ پڑھنالازم ہے،اورظہرکی نمازکاآخری وقت  مثلین تک ہےیعنی جب ہرچیزکاسایہ ،سایہ اصلی کےعلاوہ دومثل ہو،اس وقت سےپہلےتک ظہرکی نمازپڑھ سکتےہیں،اس کےکچھ وقفہ بعدعصرکی نمازکاوقت شروع ہوجاتاہے،یہ امام صاحب کامذہب ہےجب کہ صاحبین کی رائےکےمطابق مثلِ اول تک ظہرکی نمازکاوقت شروع ہوجاتاہےالبتہ فتوی امام اعظم کےقول پرہے،مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں جب عصرکی نماز اس کے وقت کے داخل ہونےسےپہلےپڑھی جائےگی تو وہ ادانہ ہوگی۔

البتہ جہاں کہیں شرعی عذر ہو، وہاں  شرعی مجبوری یا عذر کی بنا پر صاحبین کے مذہب( یعنی جب ہر چیز کا سایہ سوائے سایہ اصلی کے  ایک مثل ہوجائے تو  ظہر کا وقت ختم ہوجائے گااور عصر کا وقت شروع ہوجائے گا) پر عمل کرنےکی بھی گنجائش ہے،  اس لیے عذر کی بنا پر ان کے قول پر عمل کیا   جاسکتا ہے،  البتہ اس  کی مستقل عادت بنانا چوں کہ امام صاحب کے مفتی بہ مذہب کو ترک کرنا ہے؛ اس لیے یہ درست نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی جگہ   کوئی ایسی مسجد موجود ہو جہاں حنفی مذہب کے مطابق وقت داخل ہونے کے بعد  عصر کی نماز ہوتی ہو تو وہیں جاکر نماز پڑھنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر وہاں حنفی متبعین اپنی جماعت خود کراسکتے ہیں تب بھی مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز پڑھنا لازم ہوگا، اور  اگر ایسی صورت نہیں، بلکہ اس ملک میں  مثلِ اول کے بعد عصر کی  نماز پڑھنے کا تعامل ہو اور  دو مثل  کے بعد نماز پڑھنے کی صورت میں مستقل طور پر جماعت کا ترک لازم آتا ہو، یعنی قریب میں کوئی اور مسجد نہ ہو جہاں عصر کی نماز مثلین کے بعد پڑھی جاتی ہو اور نہ ہی اپنی مرضی سے خود جماعت کراسکتا ہو تو  اکیلےنمازپڑھنےکےبجائےمثلِ ثانی میں عصر کی نماز کی گنجائش ہوگی،بالخصوص حرمین شریفین میں توجماعت کےساتھ ہی نمازپڑھناچاہئے۔

کتاب الاصل للامام محمد:

"قلت: أرأيت رجلا مريضا صلى صلاة قبل وقتها متعمدا لذلك مخافة أن يشغله المرض عنها، أو ظن أنه في الوقت ثم علم بعد ذلك أنه صلى قبل الوقت؟ قال: لا يجزيه في الوجهين جميعا، وعليه أن يعيد الصلاة."

(كتاب الصلاة باب صلاة المريض في الفريضة،ج:1،ص:189،ط:دارابن حزم بيروت)

المبسوط للسرخسی:

"وأداء ‌الصلاة ‌قبل ‌وقتها لا يجوز."

(كتاب الصلاة باب مواقيت الصلاة،ج:1،ص:154،ط:دارالمعرفة)

بدائع الصنائع:

"لأن أداء أفعال العبادة المؤقتة ‌قبل ‌وقتها لا يجوز كالصلاة وغيرها."

(فصل في شرائط اركان الحج،ج:2،ص:160،ط:دارالكتب العلمية)

درالمختار مع الرد:

"(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى (سوى فيء)۔۔۔۔(ووقت العصر منه إلى) قبيل (الغروب)"

(قوله: وهو نص في الباب) فيه أن الأدلة تكافأت ولم يظهر ضعف دليل الإمام، بل أدلته قوية أيضا كما يعلم من مراجعة المطولات وشرح المنية. وقد قال في البحر: لا يعدل عن قول الإمام إلى قولهما أو قول أحدهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل، بخلافه كالمزارعة وإن صرح المشايخ بأن الفتوى على قولهما كما هنا.

(قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل."

(كتاب الصلاة،ج:1،ص:359،ط:دارالفكر،بيروت)

فتاوی دارالعلوم زکریا میں ہے:

مسلکِ احناف میں قول ِمختاریہی ہےکہ وقت ِعصرمثلین سےشروع ہوتاہے،عام حالات میں مفتی بہ قول پرعمل کرناچاہئےاحتیاط اسی میں ہے،البتہ دوسراقول یہ بھی ہےکہ وقتِ عصرمثلِ اول کےبعد شروع ہوتاہے،لہٰذاکوئی معذورہویامسافرہویاکسی شافعی المسلک امام کے پیچھےعصرکی نماز پڑھنےکااتفاق ہوجائےتومثلِ ثانی میں عصرکی نمازپڑھنےکی گنجائش ہے،خصوصاحرمین شریفین میں توجماعت کےساتھ ہی نمازپڑھناچاہئے،مسجداورجماعت کی فضیلت نہیں ترک کرناچاہئے،یہی افضل ہے۔

(جلددوم ص:75،مکتبہ زمزم)

آپ کےمسائل اوران کاحل میں ہے:

سوال:عصرکی نمازحنفیوں کےنزدیک ہرچیزکاسایہ دومثل ہوجائےتوپڑھنی چاہئے،اگرایک شخص ایسےملک یاکسی دوسرےملک میں کسی ایسےامام کےپیچھےنمازباجماعت پڑھتاہےجوایک مثل کےبعد پڑھا رہے ،توکیااس کےپیچھےنمازباجماعت پڑھ لےیاجماعت چھوڑدےاورجب دومثل ہوجائےتوتنہانمازاداکرے؟اس صورت میں جماعت کےترک کی وجہ سےگناہ کرمرتکب تونہیں ہوگا؟

جواب:حنفیہ کےیہاں دوقول ہیں ایک قول یہ ہےکہ مثلِ دوم میں عصرکی نمازصحیح ہےلہٰذااگرکسی جگہ عصرکی  نمازدومثل سےپہلےہوتی ہو،وہاں جماعت کےساتھ نمازپڑنی چاہئے،دوسری مثل کےختم کےانتظارمیں جماعت کاترک کرناجائزنہیں ہے۔

(جلدسوم،ص:210،مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں