بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حاملہ اور مرضعہ خاتون کے لیے روزے کی قضا یا فدیہ دینے میں روایات کا تعارض


سوال

سیدنا انس بن مالک کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ اللہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاۃِ، وَعَنِ الْحُبْلَی وَالْمُرْضِعِ .

ترجمہ: اللہ نے مسافر کو روزہ اور نماز کا نصف معاف کر دیا ہے، اسی طرح حاملہ اور دود ھ پلانے والی کو بھی۔

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ''حسن'' اور امام ابنِ خزیمہ رحمہ اللہ (2044)نے''صحیح'' کہا ہے،  یاد رہے کہ اس حدیث میں صرف روزہ اور نماز کے وقتی طور پر معاف ہونے کا ذکر ہے، قضا دینی ہے یا نہیں ، حدیث کا ظاہر اس بارے میں خاموش ہے، اس لئے فہم صحابہ سے اس کا معنی متعین کیا جائے گا۔

1: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا جسے اپنے بچے کے نقصان کا خطرہ ہے ،فرمایا:

وہ روزہ چھوڑ دے ، اس کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد (تقریباً نصف کلو گرام)گندم دے دے ۔

(السنن الکبرٰی للبیہقی : 3/ 204، وسندہ، صحیح)

2: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حاملہ نے روزے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :

أفطری ، وأطعمی عن کلّ یوم مسکیناً ولا تقضی ۔

ترجمہ: روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادیں ، قضائی نہ دیں ۔

(سنن الدارقطنی : 1/204،حدیث : 2363، وسندہ، صحیح)

2: نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی ایک قریشی کے نکاح میں تھیں ، وہ حاملہ تھیں ، رمضان میں اس نے پیاس محسوس کی تو آپ نے اسے حکم دیا کہ روزہ چھوڑ دیں، ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ۔

(سنن الدارقطنی : 1/204، ح : 2364، وسندہ، صحیح)

4: سعید بن جبیر رحمہ اللہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جو اپنے بچے کے حوالے سے خائف ہو، کے بارے میں فرماتے ہیں کہ روزہ نہ رکھیں ، ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ، چھوڑے ہوئے روزے کی قضائی بھی ان دونوں پر نہیں ہے ۔

(مصنف عبد الرزاق : 4/216، ح : 7555، وسندہ، صحیح)

5: سعید بن مسیب رحمہ اللہ (تفسیر الطبری : 2758، وسندہ حسن)اور عکرمہ(تفسیر الطبری : 2748، وسندہ صحیح) کا بھی یہی موقف ہے ۔

 الحاصل : حاملہ اور دودھ پلانے والی دونوں روزہ نہ رکھیں ، ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ، کیا ان دلائل کے بعد بھی قضا کے فتویٰ دینے کا جواز ہے؟

جواب

قرآنِ مجید میں بیمار اور مسافر کے بارے میں حکم مذکور ہے، کہ دونوں اگر مذکورہ عذر کی بناء پر روزے نہ رکھ سکے تو بعد میں قضاء کرے، جیسا کہ  سورۃ البقرۃ میں ہے:

"فَمَنْ كانَ مِنْكُمْ مَرِيضاً أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ."

ترجمہ: ’’پھر  جو شخص تم میں (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے ۔‘‘

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:83، ترجمہ: بیان القرآن)

حدیث شریف میں مریض اور مسافر کے ساتھ دودھ پلانے والی خاتون اور حاملہ کو بھی شامل کردیا گیا، جیسا کہ مروی ہے:

"عن أنس بن مالك الكعبي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع والحبلى» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه."

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الصوم،الفصل الثاني، رقم الحدیث:2520،  ج:1، ص:629، ط:المکتب  الاسلامی)

ترجمہ:’’حضرت انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے نصف نماز اٹھایا ہے، اور روزہ مسافر اور دودھ پلانے والی اور حمل والی عورت سے اٹھایا۔‘‘

قرآنِ مجید اور حدیث کی رُوسے حاملہ اور مرضعہ کے لیےروزہ نہ رکھنے کی صورت میں قضاء کا حکم ہے، لہذا قضاء پر قدرت ہوتے ہوئے روزے کے بجائے فدیہ دینا درست نہیں ہے، باقی سوال میں ذکر کردہ آثارِ صحابہ کا جواب یہ ہے کہ نصِّ قرآنی کی موجودگی میں ان آثار پر عمل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن کا مقام آثارِ صحابہ سے بڑھ کر ہے۔ 

اعلاء السنن میں ہے:

" عن أنس بن مالك الكعبى أن رسول الله  قال: إن الله عز وجل وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة، وعن الحبلى والمرضع الصوم.

وفي نوادر الفقهاء لابن بنت نعيم: أجمعوا أن الحامل إذا خافت على حملها أفطرت وقضت ولا كفارة إلا الشافعي قال في أحد الروايتين عنه: عليها الكفارة اهـ (1/306) أى الفدية عن كل يوم من على الراجح من مذهب الشافعي و به قال أحمد. كما في "رحمة الأمة" (ص:46) ففيه قيد الإفطار بالخوف فعلم أن التقييد معتبر في الحامل وكذلك المرضع.

فإن قلت: لفظ الوضع يقتضى أن لا يجب القضاء. قلت: النص القطعي وهو قوله تعالى : " فعدة من أيام أخر". أوجب القضاء على المسافر وأن الحبلى والمرضع عطفنا عليه في الحديث فالظاهر اتحاد حكمهم إلا إذا دل دليل قوى على خلافه، ولم يوجد على أن الإجماع منعقد على القضاء كما في "رحمة الأمة " أول كتاب الصيام (ص :46) وفى البخاري: قال الحسن وإبراهيم في المرضع والحامل إذا خافت على أنفسهما أو ولدهما تفطران ثم تقضيان (2/ 647).

وفي "النيل": حديث أبي هريرة أخرجه الدار قطنى وفى إسناده عمر بن موسى بن وجيه وهو ضعيف جدا، والراوى عنه إبراهيم بن نافع وهو أيضا ضعيف، وروى عنه موقوفا وصححه الدارقطني كما ذكره المصنف وغيره وفيه قوله: ويطعم كل يوم مسكيناه استدل به وبما ورد في معناه من قال : بأنها تلزم الفدية من لم يصم ما فات عليه في رمضان حتى حال عليه رمضان آخر وهم الجمهور. وروى عن جماعة من الصحابة منهم ابن عمر وابن عباس وأبو هريرة. وقال الطحاوى عن يحيى بن أكثم قال: وجدته عن سنة من الصحابة لا أعلم لهم مخالفا.

وقال النخعي وأبو حنيفة وأصحابه إنها لا تجب الفدية لقوله تعالى: "فعدة من أيام أخر " ولم يذكرها. وفيه وقد بينا أنه لم يثبت في ذلك عن النبي له شي إلى أن قال: والبراءة الأصلية قاضية بعدم وجوب الاشتغال بالأحكام التكليفية حتى يقوم الدليل الناقل عنها ولا دليل ههنا فالظاهر عدم الوجوب. وقد اختلف القائلون بوجوب الفدية هل يسقط القضاء بها أم لا؟ فذهب الأكثر منهم أنه لا يسقط، وقال ابن عباس وابن عمروقتادة وسعيد بن المسيب أنه يسقط .وفي سنن الدار قطني: سأل سعيد بن يزيد نافعا مولى ابن عمر عن رجل مرض فطال به مرضه حتى مر به رمضانان أو ثلاثة فقال نافع كان ابن عمر يقول: من أدركه رمضان ولم يكن صام رمضان الخالي فليطعم مكان كل يوم مسكينا مدا من حنطة ثم ليس عليه قضاء وفيها عن عطاء عن أبي هريرة أنه قال: إذا لم يصح بين الرمضانين صام عن هذا وأطعم عن الماضى ولا قضاء عليه وإذا صح ولم يصم حتى أدركه رمضان آخر صام هذا وأطعم عن الماضى فإذا أفطر قضاه هذا إسناد صحيح (ص: ٢٤٦). قلت: وروايات الدار قطني في سقوط القضاء كأنها مفسرة لما نقل عن بعضهم السقوط بعد الفدية فيكون السقوط خاصا بمن لم يصح وكان هذا تفسيرا لقولهم ثم لما انعقد الإجماع على وجوب القضاء كما نقلنا آنفا عن رحمة الأمة" ترك هذا القول ولايبعد أنه كان قياسا منهم رضى الله عنهم لمن اجتمع عليه الصيام ستين على من اجتمع عليه  الصلاة ستا للإغماء وكأنهم رأوا أن الجامع دفع الحرج لكنه مصادم للإجماع أولا ثم الفارق بينهما متحقق لأن الصلاة متكررة في كل يوم فكأن فيها من الحرج ما ليس في الصوم لكونه غير متكرر كذلك نعم ! بقى القول بالفدية مع القضاء فلا تحسين أنه غير مدرك بالرأى فيكون في حكم الرفع لأنه مما يحتمل أنهم حكموا فيه بدلالته آية آخر " وعلى الذين يطبقونه فدية" بعد قوله تعالى: "فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر " ورأوا أن ضمير المفعول في " يطيقونه " راجع إلى الفدية لكونها متقدمة رتبة ورأوا من اتصالها بحكم المريض والمسافر أن هذه تتعلق بهما ومن في حكمهما فأوجبوا عليهم الفدية بهذا الطريق وأنت تعلم كون الدلالة غير قطعية بل ولا ظنية فلم يكن هذا القول غير مدرك بالرأى والقرآن مطلق عن الفدية ولا يصلح خبر الواحد لا سيما الموقوف منه أن يتحقق تقشيدا بالقرآن. فلو قلنا بالفدية لزم الزيادة على الكتاب فلم نقل بها ولك أنت أولها بالاستحباب فافهم".

(کتاب الصوم، باب جواز إفطار الصوم للحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو ولدهما، رقم الحدیث:2505، ج:9، ص:155، ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102446

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں