بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حاملہ کے لیے روزہ رکھنے یا فدیہ دینے کا حکم


سوال

میری بیٹی کینیڈا میں مقیم ہے اور حاملہ ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے سے قاصر ہے ،کیا وہ فدیہ ادا کرے گی ؟ کینیڈا کے حساب سے کیا رقم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرماہردین دارڈاکٹر یہ تجویز دیتاہےکہ حمل کی حالت میں روزہ رکھنے کی وجہ سے بچے یاوالدہ کونقصان پہنچنے کا غالب گمان ہےتوروزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، رمضان المبارک کے بعد جب روزہ رکھنے کی طاقت آئے توقضاءضروری ہے،فدیہ اداکرنادرست نہیں،اوراگرماہردین دارڈاکٹرروزہ رکھنے کی تجویزدیتاہےتوپھر روزہ چھوڑنادرست نہیں۔

درمختار میں ہے:

"العوارض المبيحة لعدم الصوم ۔۔۔أو حامل أو مرضع۔۔۔ الفطر۔۔۔(وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) لأنه على التراخي ولذا جاز التطوع قبله بخلاف قضاء الصلاة."

(كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، ج:2، ص:321، ط:دار الفكر-بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما وجوب القضاء۔۔۔ فلقوله تعالى {فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر}فأفطر فعدة من أيام أخر، ولأن الأصل في العبادة المؤقتة إذا فاتت عن وقتها أن تقضى لما ذكرنا في كتاب الصلاة."

(كتاب الصوم، فصل حكم الصوم المؤقت إذا فات عن وقته، ج:2، ص:103، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100320

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں