بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حاملہ جانور کی قربانی کا حکم


سوال

حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

حاملہ جانور  کی قربانی بلا شبہ درست ہے ،البتہ جان بوجھ کر ولادت  کے قریب جانور کو ذبح کرنا مکروہ ہے،ذبح کے بعد پیٹ سے جو بچہ نکلے اس کو ذبح کرلیا جاۓ اس کا کھانا حلال ہے اور اگر بچہ مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست نہیں ہے اور اگر بچہ ذبح  کرنےسے پہلے ہی  مر جاۓ ، تو اس کا کھانا حرام ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌شاة ‌أو ‌بقرة أشرفت على الولادة قالوا يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد، وهذا قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لأن عنده الجنين لا يتذكى بذكاة الأم، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الذبائح ،الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه،287/5،ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولدت الأضحية ولدا قبل الذبح يذبح الولد معها.

(قوله قبل الذبح) فإن ‌خرج ‌من ‌بطنها ‌حيا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم."

(كتاب التضحية،322/6،ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں