بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

حاملہ عورت کے روزہ چھوڑنے کے متعلق


سوال

اگر زیادہ کم زور ہو  تو حاملہ عورت روزہ چھوڑ سکتی ہے؟

جواب

اگر حاملہ عورت کو ظنِ غالب ہو کہ روزہ رکھنے  کی صورت میں خود اس کی جان یا بچے کی صحت  کو خطرہ ہوسکتا ہے تو اس حالت میں عورت روزہ چھوڑسکتی ہے، لیکن اس صورت میں ان قضا شدہ روزوں کی بعد میں قضا کرنا واجب ہے، اس صورت میں فدیے کا حکم نہیں ہے، لہذا فدیہ ادا کرنے سے روزے ساقط نہیں ہوں گے ؛اس لیے مذکورہ عورت کے ذمے ان تمام روزوں کی قضا ضروری ہے جو  اس حالت میں چھوٹے ہیں، جب صحت بحال ہوجائے جلد روزوں کی قضا کی سعی کرے۔

الفتاوى الهندية (1 / 207):

"(ومنها حبل المرأة، وإرضاعها) الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو، ولدهما أفطرتا وقضتا، ولا كفارة عليهما، كذا في الخلاصة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں