بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حمل کے دوران تین طلاق دینے کاحکم


سوال

میری بیٹی کی شادی کوچھ سال ہوگئے ،سسرال میں آئےروزلڑائی جھگڑے رہتےتھے،ہرلڑائی کے بعداس کاشوہرمیری بیٹی کومیرے گھرچھوڑجاتاتھا،اس بارسسرال والوں نے مارپیٹ کی ،جس کے بعدمیری بیٹی گھرآگئی،شوہرکوصلح کرنے بلایااورصلح کرانے کے بعددونوں کوگھربھیجا،راستے میں جاتےہوئےاس کے شوہرنے تین بارنام لےکرمیری بیٹی کوطلاق دی ،اورروڈپرہی چھوڑکرچلاگیا،میری بیٹی کی ایک چارسالہ بیٹی ہےاوراس وقت وہ حاملہ بھی ہے، برائےمہربانی شریعت کے مطابق مجھےبتائیں  کہ طلاق ہوئی کہ نہیں ؟تاکہ اس مسئلہ کاحل نکال سکوں ۔

شوہرکے الفاظ یہ ہے:میں نے آپ کوتین دفعہ طلاق دی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃًسائلہ کا بیان صحیح ہے کہ اس کے دامادنے سائلہ کی بیٹی کومذکورہ واقعہ میں طلاق کے مذکورہ خط کشیدہ الفاظ اداکیے کہ"میں نے آپ کوتین دفعہ طلاق دی"تواس میں سائلہ کی بیٹی پرتینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ، نکاح ختم ہوگیا ہے، بیوی شوہر پر  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،  اب شوہر کے لیے رجوع کرنا یا دوبارہ  نکاح کرنا جائز نہیں ہے ،بیوی اپنی عدت ( بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہےالبتہ بیوی اگرعدت گزارنے اورنفاس کی مدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اوراس دوسرے شوہر سے صحبت (جسمانی تعلق ) ہوجائے اس کے بعد وہ دوسراشوہراسے طلاق دیدے یابیوی طلاق لے لے یااس کاانتقال ہوجائے تواس کی عدت گزارکراپنے پہلے شوہرسے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے   ۔

 میاں بیوی میں علیحدگی کے بعدلڑکی جب تک  نو سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے تو ان کی پرورش کا حق بچی کی ماں (سائلہ کی بیٹی )کو حاصل ہوگا، بشرطیکہ وہ بچی کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اجنبی سے نکاح  نہ کرے ،زیرنظرمسئلہ  میں بیٹی کی پرورش کاحق ان کی نو سال کی عمرہونے تک ماں کوحاصل ہے ،اس کے بعدوالداس بیٹی کو  اپنی پرورش میں لے سکتاہے،اوربیٹی کانان ونفقہ شرعاًباپ پرلازم ہے،اوربچہ کی پیدائش کے بعداگربیٹی پیداہوتواس کی پرورش کاحکم بھی یہی ہے،اگربیٹاپیداہوتواس کی سات سال کی عمرہونے تک اس کی پرورش کاحق ماں کوحاصل ہوگا۔

قرآن مجیدمیں ہے:

"اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْئًا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَـآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۖ فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا  ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ(229)فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهُ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (230)"

ترجمہ :طلاق دو مرتبہ  ہے،پھر خواہ رکھ  لیناقاعدہ  کے موافق،خواہ چھوڑدیناخوش عنوانی کےساتھ،اورتمہارےلیےحلال نہیں کہ کچھ بھی لواس میں سے جوتم نے ان کودیاتھامگریہ میاں بی بی دونوں کواحتمال ہوکہ اللہ تعالی کےضابطوں کوقائم نہ کرسکیں گے،سواگرتم لوگوں کویہ احتمال ہوکہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کوقائم نہ کرسکیں گے تودونوں پرکوئی گنانہ ہوگااس میں جس کودےکرعورت اپنی جان چھڑاے یہ خدائی ضابطےہیں سوتم ان سےباہرمت نکلنااورجوشخص خدائی ضابطوںسے باہرنکل جاوےسوایسےہی لوگااپنانقصان کرنےوالےہیں،پھراگرکوئی طلاق دےدےعورت کوتوپھروہ اس کےلیےحلال نہ رہےگی اس کےبعدیہاں تک کہ وہ اس کے سواایک اورخاوندکیساتھ نکاح کرےپھراگریہ اس کو طلاق دےدےتوان دونوں پراس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستورپھرمل جاویں بشرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہوں کہ خداوندی ضابطوں کوقائم رکھیں گے اوریہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالی ان کوبیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کےلیے جودانشمندہیں۔

(بیان القران ،ج:1،ص:134،پارہ:2،ط:میرمحمدکتب خانہ) 

وفیہ ایضاً:

"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (4) ذَٰلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ"

ترجمہ :اورحاملہ عورتوں کی عدت اس حمل کاپیداہوجاناہےاورجوشخص اللہ سے ڈرے گااللہ تعالی اس کے ہرکامیں آسانی کرگا،یہ(جوکچھ مذکورہوا)اللہ کاحکم ہے،جواس نے تمہارےپاس بھیجا۔

(بیان القرآن ،سورۃ الطلاق،پارہ :29،ج:3،ص:562،ط:رحمانیہ)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا قال لامرأته: أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولةً طلقت ثلاث".

(الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج:1،ص:355،ط رشیدیہ)

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضًا حتى لايحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ... وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}".

 (فصل فی حكم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،ط:،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة ومايتصل به،ج:1، ص: 473، ط: مكتبه رشيديه)

تبیین الحقائق میں ہے:

"(وللحامل وضعه) أي ‌عدة ‌الحامل وضع الحمل سواء كانت حرة أو أمة، وسواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو غيره لإطلاق قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4]."

(كتاب الطلاق ،باب العده،ج:3،ص:28،ط:المطبعة الكبرى الاميرية القاهرة)

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع)، (قوله وبها حتى تحيض) أي: الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض، وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة قال في النقاية وهو المعتبر لفساد الزمان، وفي نفقات الخصاف وعن أبي يوسف مثله، وفي التبيين وبه يفتى في زماننا لكثرة الفساد، وفي الخلاصة وغياث المفتي والاعتماد على هذه الروايات لفساد الزمان. فالحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية، واختلف في حد الشهوة، وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى."

(كتاب الطلاق ،باب الحضانه،ج:4،ص:184،ط:دارالكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں