بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حمل، زچگی اور دودھ پلانے کے زمانہ میں روزہ رکھنا


سوال

زچگی کے دوران خواتین کے روزے قضا رکھنا ہوتے ہیں ؟ اور بچے کو دودھ پلاتے وقت روزے رکھنے ہیں یا نہیں ؟

جواب

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے، البتہ اگر   حاملہ عورت یا دودھ پلانے والی عورت  کو    ظنِ غالب ہو کہ روزہ رکھنے  کی صورت میں خود اس کی  یا   بچے کی صحت  کو خطرہ ہوسکتا ہے یا  کوئی  مسلمان، دین دار  ڈاکٹر   اس حالت میں ماں یا بچے کو  نقصان ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے   روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے  تو    ایسی صورت میں عورت کے لیے   حمل کی حالت میں  ،   زچگی کے دوران بچے کی ولادت سےپہلے اور دودھ پلانے کے زمانہ میں روزہ چھوڑنا جائز  ہوگا، باقی  بچہ کی ولادت کے بعد  نفاس (ولادت کےبعد آنے والے خون ) کے دنوں میں  عورت کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، ان  سب صورتوں میں   عذر ختم ہوجانے کے بعد،  ان روزوں کی بعد میں   قضا رکھنا لازم ہوگا۔

حدیث مبارک  میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلى التي تخاف على نفسها أن تفطر، وللمرضع التي تخاف على ولدها."

(2/ 576، برقم :1668، باب ما جاء في الإفطار للحامل والمرضع، ط: دار الرسالة العالمية)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء".

(2/ 384، کتاب الصوم، ط:إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144409101222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں