بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

حمل ساقط ہونے کے بعد آنے والے خون کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں:

1:میرے حیض کے اپنے ایّامِ عادت ہے، اور فروری میں مجھے حمل ٹھہر گیا لیکن  ایک جون کو وہ حمل ختم ہوگیا، اسکے بعد سے مجھے خون جاری ہے، یہ میرا دوسرا بچہ تھا اور یہ پہلے بچے کے بہت سال بعد (تقریباً 17 سال بعد) ہوا تھا، اسلئے مجھے بالکل یاد نہیں اور نہ ہی اندازہ کرسکتی ہوں کہ پہلے بچے میں نفاس کتنے دن تھا،  اب سوال یہ ہے کہ پہلی جون سے اب تک جو خون جاری ہے اس میں نفاس کتنے دن شمار کیا جائے گا؟

2: نیز  میں نے نفاس ختم ہونے کا چالیس دن انتظار کیا جب ختم نہیں ہوا تو غسل کرکے نماز شروع کر دی،  لیکن اب سمجھ نہیں آرہا کہ نفاس کے کتنے دن شمار کروں اور اب حیض کون سی تاریخ سے شمار ہو،  جو مس کیرج ہوا تھا وہ تقریباً چار مہینے پر تھا اور بچی کے سب اعضاء بن چکے تھے،  اس لئے میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم دیوبند کے فتاوی کی روشنی میں مس کیرج کے بعد آنے والے خون کو نفاس شمار کیا،  ایک اور بات مفتی صاحب، مجھے نفاس کے ابتدائی دنوں میں نارمل خون آیا پھر نفاس کے آخری دنوں میں اور اب تک خون بالکل ہلکا ہلکا آرہا ہے،  کبھی بند ہو جاتا ہے دو دن تک پھر ہلکا سا آتا ہے، لیکن جولائی کی 6 یا 7 تاریخ کو خون بالکل حیض کے جیسا زیادہ آنے لگا اور وہ زیادہ خون حیض کے دس دن کے اندر ہی بند ہوگیا،  اور اب اسکے بعد سے ہلکا ہلکا ہی آرہا ہے،  اسلئے میں یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ کیا میرے حیض کے گزشتہ ایام (جو حمل سے پہلے ہوتے تھے اور میرے ایامِ عادت ہے) کیا ان کے حساب سے یہ بیچ میں زیادہ آنے والا خون حیض ہوگا یا استحاضہ ہی تھا۔ اور اب میری حیض کی کیا تاریخ شمار ہوگی؟

جواب

1: صورتِ مسئولہ میں میں چار ماہ کے حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون جبکہ پہلے بچے کے بعد آنے والا خون یاد بھی نہیں ہےاور نہ ہی کسی طرح اندازہ سے معلوم ہوسکتا ہے، تو چالیس دن تک آنے والے خون نفاس ہی کا خون شمار ہوگا، اور چالیس دن کے بعد جاری ہونے والا خون استحاضہ کا خون ہے، سائلہ نے چالیس دن مکمل ہونے کے بعد غسل کرکے جو نمازیں پڑھنا شروع کی یہ شریعت کے حکم کے عین مطابق ہے۔

2: مذکورہ ایام گزرنے کے بعد خون مسلسل جاری ہونے کی صورت میں سائلہ کے عادت ہی کے  ایام حیض شمار ہوں گے، اور باقی ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے، جس میں سائلہ کے لیے ہر وقت کے لیے وضو کرکے نماز پڑھنی چاہیے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:

"أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة وعليه الفتوى وأكثره أربعون. كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس هكذا في المحيط."

(كتاب الطهارة، الفصل الثانى فى النفاس، ج:1، ص:37، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100628

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں