بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حمل کی گروتھ رکنے کی وجہ سے حمل ساقط کرنے کا شرعی حکم


سوال

عورت کے پیٹ میں حمل تین ماہ کا تھا، ڈاکٹر کے پاس ریگولر چیک اپ کے لئے گئی، ڈاکٹر نے الٹرا ساؤنڈ وغیر کئے اور بتایا کہ ماں کے پیٹ میں حمل کی گروتھ رک چکی ہے، اور دو ہفتوں سے حمل کی گروتھ نہیں ہو رہی، اس  لیے اس حمل کو نکالنا  ہوگا، ورنہ یہ ماں کی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، میرا سوال یہ کہ کیا ڈاکٹر کے مشورے پر اعتماد کرکے اس طرح کر نا شرعی طور پر ٹھیک ہے ؟، دوسرا اندر سے جو نکلے گا اس کو دفنایا جائے  یا اسی پھینک دیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر حمل سے عورت کی جان کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو  اور کوئی  تجربہ کار مستند مسلمان ڈاکٹر اس کی تصدیق کردے  تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے، اور  شدید عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا   چار ماہ سے پہلے  بھی  جائز نہیں، بل کہ بڑا گناہ ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً حمل کی گروتھ رک چکی ہے،اور ماہر دین دار ڈاکٹر  کے مطابق اس کی وجہ سے ماں کے پیٹ میں زہر پھیل رہا ہے،   اور غذا یا دوا سے اس كا علاج ممكن نهيں هے تو  حمل گرانے کی گنجائش ہوگی،  ورنہ نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ  صرف گروتھ کے رکنے کی وجہ سے حمل کو ساقط کرنا جائز نہیں ہے،جب تک  وه ماں کی جان کے لیے خطرے کا باعث نہ بنے۔

بصورتِ جواز حمل گرانے  کے بعد  بچہ جس صورت میں نکلے ،اس کو کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں۔ 

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي.

وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية."

(کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد، ج:5، ص:356، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

 "ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور.....(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك ."

(کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره، ج:6، ص:429، ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101914

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں