بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ہمیشہ دوائی کھانے والا روزہ کا فدیہ ادا کرے گا


سوال

اگر کسی کو ہمیشہ دوائی کھانے کی ضرورت ہوتی ہو بیماری کی وجہ سے، وہ روزہ رکھ ہی نہ سکتا ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر کسی کو ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو جس میں کوئی مسلمان دیانت دار ماہر طبیب یہ مشورہ دے کہ روزہ رکھنا مضر ہے، یا دن میں دوائی کھانا ضروری ہے، تو ایسے شخص کو اگر دوبارہ تندرست ہونے کی امید ہو تو اُس  صورت میں تندرست ہونے کے بعد موت تک جتنے روزوں کی قضاء کا موقع مل گیا ان کی قضاء لازم ہوگی،چاہے روزے رکھنا شروع کیا ہو یانہ کیا ہو۔

اور اگر ایسی بیماری ہےکہ اس سے دوبار ہ صحت       ملنے کی کوئی امید نہیں، اور ماہر مسلمان دیانت دار طبیب یہ کہہ دے کہ ہمیشہ دوائی کھانی ضروری ہےتو ایسا شخص شرعی معذور ہے، لہٰذا وہ روزہ نہ رکھے بلکہ ہر روزہ کے بدلے ایک صدقۂ فطر کی مقدار (ایک صاع یعنی ساڑھے تین کلو جو،کھجور،کشمش،یا اس کی قیمت یا آدھاصاع یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) ادا کرے ۔

نیز آئندہ اگر بیماری سے صحت مل گئی اور روزہ رکھنے کی طاقت آگئی تو یہ دیا گیا فدیہ کافی نہ رہے گابلکہ دوبارہ قضاء کرنا لازم ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم وقد ذكر المصنف منها خمسة وبقي الإكراه وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفرا شرعياولو بمعصية (أو حامل أو مرضع)....(خافت بغلبة الظن على نفسها أو ولدها)....أو مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض، وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم مستور....الفطر) يوم العذر إلا السفر.....وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء)....(فإن ماتوا فيه)أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية)....ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر....(وفدية كل صلاة ولو وترا) كما مر في قضاء الفوائت (كصوم يوم) على المذهب وكذا الفطرة والاعتكاف الواجب يطعم عنه لكل يوم كالفطرة والولوالجية....(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي)....ولو كان مسافرا فمات قبل الإقامة لم يجب الإيصاء، ومتى قدر قضى لأن استمرار العجز شرط الخلفية"

(‌‌كتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم ، 2/ 421، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"باب صدقة الفطر ....تجب).....(نصف صاع)....(من بر أو دقيقه أو سويقه أو زبيب)....(أو صاع تمر أو شعير)"

(باب صدقة الفطر،2/ 357، ط: سعید)

"مفتاح الاوزان" میں ہے:

"صاع: تین کلو، ایک سو انچاس گرام، دو سو اسی ملی گرام(3کلو، 149گرام،280ملی گرام)

نصف صاع: ایک کلوپانچ سو چوہتر گرم،چھ سو چالیس ملی گرام(1کلو،574 گرام،640ملی گرام)"

(باب دوم، پیمانوں کا بیان،المُد والصاع، ص:40، ط:الاُمۃ ایجوکیشنل ایند چیریٹیبل ٹرسٹ حیدر آباد ،الہند)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144509101194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں