بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ہاف آستین میں نماز پڑھنا کیساہے؟


سوال

ہاف آستین میں نماز پڑھنا کیساہے؟

جواب

آدھی (ہاف) آستین والی شرٹ یا قمیص میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس حالت میں نماز ادا کی تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولو ‌صلى ‌رافعا ‌كميه إلى المرفقين كره. كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج:١، ص:١٠٦، ط:رشيدية)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال: نیم آستین کا کرتہ یا بنڈی یا ٹخنہ سے پائجامہ (جیسافی زمانہ رواج ہوگیا ہے) پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:مکروہ ہے۔"

(کتا ب الصلاۃ، مکروہاتِ نماز کا بیان، عنوان:نیم آستین کرتہ، ٹخنوں سے نیچا پائجامہ سے نماز، ج:6، ص:654، ط:ادارۃ الفاروق)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال:نصف آستین کی قمیص سے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:حضرت نبی کریم ﷺ سے نصف آستین کی قمیص پہننا منقول نہیں ہے، خلافِ سنت ہے، اس کو پہن کر نماز پڑھنا منقول نہیں ہے، ایسی قمیص خلافِ سنت ہے، اس کو پہن کر نماز پڑھنا بھی خلافِ سنت ہے۔"

(کتا ب الصلاۃ، مکروہاتِ نماز کا بیان، عنوان:نصف آستین کی قمیص سے نماز پڑھنا، ج:6،ص:654، ط:ادارۃ الفاروق)

کفایت المفتی میں ہے:

"کرتا ہوتے ہوئے صرف نیم آستین بنیان پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، نماز ہوجاتی ہے، مگر کراہت کے ساتھ۔"

(کتاب الصلاۃ، عنوان:آدھی آستین والی بنیان میں نماز، ج:3، ص:478، ط:دار الاشاعت)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"سوال: ایک شخص کی یہ عادت ہے کہ بحالتِ نماز دونوں ہاتھوں کی آستین گرمی کی وجہ سے اوپر چڑھا لیتا ہے، تو اس سے نماز میں نقص آئے گا یا نہیں؟

جواب: نماز میں دونوں ہاتھوں کی آستین اوپر چڑھانا، یہ عملِ کثیر ہے،  اس وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، لہٰذا ایسی حرکت سے احتراز لازم ہے، شامی میں ہے:أما لو شمر وهو فيها، تفسد؛ لأنه عمل كثير. یعنی آستین چڑھی ہوئی حالت میں نماز شروع کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر نماز پڑھنے کی حالت میں آستین چڑھائے گا تو عملِ کثیر ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ وضو کے لیے یا اور کسی سبب سے آستین چڑھائی ہوئی ہوں تو اتار لیوے، پھر نماز شروع کرے، اگر آستین چڑھی ہوئی حالت میں امام کے ساتھ رکعت پا لینے کے شوق میں نماز میں داخل ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اور تھوڑی تھوڑی اتار لیوے کہ جس سے عمل کثیر لازم نہ آوے، آستین چڑھی ہوئی رکھ کر نماز پڑھنا یا آدھی آستین والا قمیص پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔"

(کتاب الصلاۃ، مفسداتِ صلاۃ، عنوان:نماز میں آستین چڑھانا، ج:5، ص:108، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100638

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں