بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں نماز پڑھنے اور مرتد کی توبہ کا حکم


سوال

اگر کوئی بندہ حالتِ جنابت میں نماز پڑھ کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے(مرتد ہو جائے) اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہو اور دوبارہ اسلام میں داخل ہونا چاہے لیکن اسے تین دن کی مہلت نہ دی جائے اور تین دن سے زیادہ وہ شخص حالتِ ارتداد میں رہے تو کیا اس کی توبہ اور تجدیدِ ایمان ہو جائے گی اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے گا؟ راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ  اگر کوئی شخص حالتِ جنابت (یعنی غسل واجب ہونے کی حالت میں) نماز پڑھنے کو جائز اور درست سمجھتا ہے، یا دین یا نماز کے استخفاف، حقارت اور اہانت کی غرض سے قصداً حالتِ جنابت میں غسل کے بغیر نماز پڑھتاہے،  تو  ایسا شخص حکمِ شرعی کی اہانت، استخفاف اور  فرض کے انکار کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا بھی لازم ہوگا،ایسا شخص اگر تین دن بعد بھی توبہ اور تجدیدِ ایمان کرلے تو اس کی توبہ اور ایمان مقبول ہوں گے اور اس پر مسلمانوں والے تمام احکام جاری ہوں گے۔

لیکن اگر کوئی شخص غسلِ جنابت کیے بغیر  نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا، اور نہ ہی شریعت کی اہانت کی غرض سے ایسا کرتا ہے، بلکہ لاعلمی میں یا غلطی سے یا سستی، کاہلی  کی وجہ سے غسلِ جنابت کیے بغیر نماز پڑھتا ہے تو  اس عمل سے یہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، لیکن غفلت،لاعلمی، سستی اور کاہلی  کی وجہ سے ایسا کرنا سنگین گناہ ہے، جس پر سچے دل سے توبہ واستغفار کرنااورآئندہ کے لیے اس عمل سے اجتناب کرنے کا عزم کرنا ضروری ہےاورایسی صورت میں نماز کا اعادہ بھی   لازم ہوگا۔

قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ." (النحل،119)

ترجمہ : "پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے برا کام کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور (آئندہ کے لیے) اپنے اعمال درست کر لیے تو آپ کا رب اس (توبہ) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت والا ہے۔"(بیان القرآن)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

"فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ."(المائدة، 39)

ترجمہ: "پھر جو شخص توبہ کرلے اپنی اس زیادتی کے بعد اور اعمال کی درستی رکھے تو بےشک الله تعالیٰ اس پر توجہ فرماوینگے بےشک خدا تعالیٰ بڑے مغفرت والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں ۔"(بیان القرآن)

سنن نسائی میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: «‌كان ‌رجل ‌من ‌الأنصار ‌أسلم ثم ارتد ولحق بالشرك، ثم تندم، فأرسل إلى قومه سلوا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل لي من توبة، فجاء قومه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: إن فلانا قد ندم، وإنه أمرنا أن نسألك هل له من توبة، فنزلت: {كيف يهدي الله قوما كفروا بعد إيمانهم} إلى قوله: {غفور رحيم}، فأرسل إليه فأسلم»."

(كتاب تحريم الدم، توبة المرتد، ج:7، ص:107،  ط:المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب، كما في الخانية. (قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال: المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لايؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ، ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لايؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافراً، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصاً: أي والاستخفاف في حكم الجحود. (قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة: وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية: لايكون كفراً، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفراً عند الكل. اهـ.أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لايكون كفرا عند الكل، تأمل".

(كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 81، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"وحديث «رفع عن أمتي الخطأ» محمول على رفع الإثم.

 (قوله: «رفع عن أمتي الخطأ») قال في الفتح: ولم يوجد بهذا اللفظ في شيء من كتب الحديث، بل الموجود فيها " «إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه»، رواه ابن ماجه وابن حبان والحاكم، وقال: صحيح على شرطهما، ح.

(قوله: على رفع الإثم) وهو الحكم الأخروي، فلا يراد الدنيوي وهو الفساد؛ لئلايلزم تعميم المقتضى، ح عن البحر."

(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما يكره فيها، ج: 1، ص: 615، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام، فإن كانت له شبهة أبداها كشفت إلا أن العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا في فتح القدير ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل هذا إذا استمهل، فأما إذا لم يستمهل قتل من ساعته ولا فرق في ذلك بين الحر والعبد كذا في السراج الوهاج ‌وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام."

(كتاب السير،الباب التاسع في أحكام المرتدين، ج:2، ص:253، ط:رشيدية)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"وللحنفية في قبول توبته كلام قريب من الشافعية ولا يوجد للحنفية غير قبول التوبة وأما الحنابلة فكلامهم قريب من كلام المالكية هذا تحرير المنقول في ذلك وأما الدليل فمعتمدنا في قبول التوبة قوله تعالى: {قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف} [الأنفال: 38] و قوله تعالى: {قل يا عبادي الذين أسرفوا} [الزمر: 53] الآية وقوله تعالى: {‌كيف ‌يهدي ‌الله ‌قوما كفروا} [آل عمران: 86] الآية. وهذه الآيات نص في قبول توبة المرتد."

(باب الردة والتعزير، ج:1، ص:104، ط:دارالمعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505100833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں