بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں روزہ رکھنے اور غسل میں تاخیر کا حکم


سوال

جماع کے بعد روزہ رکھنے اور طلوع آفتاب کے بعد نہانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں بیوی سے جماع کرنے کے بعد  حالتِ جنابت میں سحری کر کے روزہ رکھ لیا تو شرعاً اس کا روزہ درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی  فرق نہیں پڑے گا، البتہ جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، لیکن غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ سورج طلوع ہوکر   فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو أصبح جنبا و) إن بقي كل اليوم۔۔۔۔۔(لم يفطر)."

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم وما لا یفسد،ج:۲،ص:۴۰۰،سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط."

(کتاب الطہارۃ،الباب الثالث فی المیاہ،ج:۱،ص:۱۶،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں