بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حالت ارتداد میں جو فرائض فوت ہوئے ہوں ،اسلام لانے کے بعد ان کی قضا کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص کچھ دِنوں کیلئے دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا تھا، تو  کیا اس پر صرف اس ارتداد کی حالت میں چھوڑے گئے فرض عبادات کی قضا لازم ہوگی؟  یا حالت ایمان میں جتنی فرض عبادات کی تھیں ان کو بھی واپس لوٹانے ہوگایا دونوں کو؟ 

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام عطا ہونے کے بعد اس نعمتِ اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دینِ منسوخ کی طرف جانا نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمی کی ناشکری بلکہ اب تک کیے گئے سارے اعمال ضائع کرنے کا سبب بھی ہے،چناں چہ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاک ارشاد ہے:

لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (سورة الزمر، آية 65)

ترجمہ: 

اگر توشرک کرے گا،تو تیرا کیا کرایا سب کام غارت ہوجائے گا،اور تو خسارہ میں پڑے گا۔

(از معارف القران، سورۃ زمر،   ج:7، ص:572، ط:مکتبہ  معارف القران)

مذکورہ  آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی بندہ کفر و شرک اختیار کرتا ہے اگرچہ ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو تو اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں،نیز زندگی اور موت کا سوائے اللہ رب العزت کے کسی کو بھی علم نہیں ہے،اور عین ممکن ہے کہ جس لمحے کوئی دینِ اسلام چھوڑ کر کفریہ ملت کا معتقد ہو عین اسی لمحہ موت کا پروانہ آجائے اور اس طرح وہ آدمی ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت اور رسوائی اپنے دامن میں لے کر جہنم کا ایندھن بن جائے ،لہذا کافر ہونا چاہے کچھ دنوں کے لیے ہو چاہے ایک لمحے کے لیے ہو اللہ تعالی کے ساتھ اس کے دین کے معاملے میں مذاق اور اس کی سخت پکڑ کا باعث ہے۔

تاہم اگر کوئی    مسلمان  نعوذ  باللہ  مرتد  ہوجائے  تو اس پر فرض عبادات سے متعلق تفصیل درج ذیل ہے :

1۔    اس  حالت  ارتداد  میں  اس  پر  فرض  عبادات  میں  سے  کچھ  بھی  فرض  نہیں،  اور  نہ   ہی  اسلام  لانے  کے    بعد    اس  کی  قضاء  اس  پر  لازم  ہے،  کیونکہ  یہ  فرائض  مسلمانوں  کے  ہیں  ،  نہ  کہ  کافروں  کے۔

2۔حالت  ارتداد  سے  پہلے،اسلام  کی  حالت  میں  ،  جو حقوق  اللہ   (نماز  ،  روزہ  وغیرہ)  ادا  کرچکا  ہے،ان  کو  اب  دوبارہ  ادا  کرنا      لازم  نہیں۔

3۔حالت  ارتداد  سے  پہلےجو    حقوق  اللہ  وغیرہ  ادا  نہیں  کیے  تھے،  ان  کی  قضا حسبِ سابق  اس  پر  لازم  ہے۔

فتاوی  شامی  میں  ہے:

"وحقق ذلك البرهان اللقاني في شرحه الكبير على جوهرة التوحيد بأن قوله صلى الله عليه وسلم: «خرج من ذنوبه» لايتناول حقوق الله تعالى وحقوق عباده؛ لأنها في الذمة ليست ذنبًا وإنما الذنب المطل فيها، فالذي يسقط إثم مخالفة الله تعالى. اهـ. والحاصل أنه تأخير الدين وغيره وتأخير نحو الصلاة والزكاة من حقوقه تعالى، فيسقط إثم التأخير فقط عما مضى دون الأصل ودون التأخير المستقبل."

(کتاب الحج، فروع فی الحج، مطلب فی تکفیر الحج الکبائر، ج:2، ص:623، ط: مصطفى البابي الحلبي)

وفیہ  ایضاً:

"(ويقضي ما ترك من عبادة في الإسلام) لأن ترك الصلاة والصيام معصية والمعصية تبقى بعد الردة (وما أدى منها فيه يبطل، ...)

قال ابن عابدین: [مطلب المعصية تبقى بعد الردة] (قوله والمعصية تبقى بعد الردة) نقل ذلك مع التعليل قبله في الخانية عن شمس الأئمة الحلواني. قال القهستاني: وذكر التمرتاشي أنه يسقط عند العامة ما وقع حال الردة وقبلها من المعاصي، ولا يسقط عند كثير من المحققين اهـ وتمامه فيه. قلت: والمراد أنه يسقط عند العامة بالتوبة والعود إلى الإسلام للحديث «الإسلام يجب ما قبله» ... ثم لا يخفى أن هذا الحديث يؤيد قول العامة: ولا ينافيه وجوب قضاء ما تركه من صلاة أو صيام ومطالبته بحقوق العباد لأن قضاء ذلك كله ثابت في ذمته، وليس هو نفس المعصية وإنما المعصية إخراج العبادة عن وقتها وجنايته على العبد فإذا سقطت هذه المعصية لا يلزم سقوط الحق الثابت في ذمته، كما أجاب بعض المحققين بذلك عن القول بتكفير الحج المبرور الكبائر، والله سبحانه وتعالى أعلم.(قوله وما أدى منها فيه يبطل) في التتارخانية معزيا إلى التتمة قيل له لو تاب تعود حسناته؟ قال: هذه المسألة مختلفة فعند أبي علي وأبي هاشم وأصحابنا أنه يعود. وعند أبي القاسم الكعبي لا، ونحن نقول إنه لا يعود ما بطل من ثوابه لكنه تعود طاعاته المتقدمة مؤثرة في الثواب بعد اهـ بحر."

(كتاب الجهاد ،باب المرتد، ج4، ص251، ط:مصطفي البابي الحلبی)

فقط  واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144411101242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں