بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں جماع کرنے کا حکم


سوال

عورت شرعی عذر میں ہے،اور اس نے عذر کی حالت میں ہی حق ادا کر لیا غلطی سے تو وہ اس صورت میں کیا کرے؟

جواب

واضح رہے کہ حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،جس پر سچے دل سے توبہ و استغفار  ضروری ہے،نیز یہ طبی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے ،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

بنا  بریں صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ مذکورہ خاتون اور اس کے شوہر سے  گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوا ہے،لہذا  اس پر اُنہیں  سچے دل سے توبہ و استغفار اور آ ئندہ کے لیے مکمل اجتناب ضروری  ہے، نیز مذکورہ گناہ کے ازالے کے لیے بہتر یہ  ہے کہ  کچھ صدقہ کرے، تاکہ نیکی سے گناہ دُھل جائے،  استطاعت ہو تو ایک دینار ( یعنی  4.374گرام سونا یا اس کی قیمت، اگر ایام کا خون سرخ ہو) یا آدھا دینار (یعنی  2.187 گرام سونا یا اس کی قیمت، جب کہ خون سرخ رنگ کے علاوہ ہو)  صدقہ کریں۔  

ملحوظ رہےکہ مذکورہ صورت میں ایک دینار یا آدھا دینار کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے،اگر استطاعت نہ ہو تو  جس قدر ممکن ہو اتنا صدقہ کردیں، مثلاً  1000 یا 5000 روپے  یا جتنا ہو سکے، تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويندب تصدقه بدينار أو نصفه.

(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعًا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:298، ط:ايج ايم سعيد)

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’(سوال ۳۳۷) اگر کوئی شخص اپنی زوجہ سے حالتِ حیض میں جماع کرے تو اس پر کفارہ لازم آوے گا یا نہ؟
(جواب)در مختار میں ہے کہ حالتِ حیض میں اپنی زوجہ سے وطی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس کو توبہ کرنا لازم ہے اور ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے، اور ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے ۔فقط۔‘‘

(فتاوی دارالعلوم دیوبند ، ج:1 ،ص:211 ،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102464

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں